خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 88

^^ ہوتا ہے۔آج ہی دیکھ لو۔اس اجتماع کے موقعہ پر کسی قدر شور ہو رہا ہے۔ادھر میرا خطبہ ہو رہا ہے اُدھر ان بچوں کے خطبے ہو رہے ہیں۔حالانکہ ان کے ماں باپ بھی یہاں موجود ہیں۔مگر ان کو اس بات کا کوئی خیال نہیں تو یہ تربیت میں غفلت اور کوتاہی کا نتیجہ ہے۔حالانکہ خطبہ سے پہلے میں نے کہا بھی تھا کہ جو مائیں اپنے بچوں کو چپ نہیں کر سکتیں وہ اپنے بچوں کو لیکر چلی جائیں تا دوسرے لوگ آرام سے خطبہ سُن سکیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔مساجد میں بچوں کو نماز کے لئے لے جاؤ تو پیچھے کھڑا کر ی ہے۔مگر بعض ماں باپ خود انگلی پکڑ کر بچے کو اپنے ساتھ صف میں کھڑا کر لیتے ہیں۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کی وجہ یہی ہے کہ آخر بچہ بچہ ہی وہ بے چینی اور گھبراہٹ اور بچپن کی حرکات کا اظہار کرے گا اور اس طرح بڑوں کی نماز میں بدمزگی اور خلل واقعہ ہو گا۔پھر اس حکم کا یہ فائدہ بھی ہے کہ ان کے اندر تربیت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ ابھی ہم سیکھ رہے ہیں۔اور جب تک سیکھ نہیں ہمارا حق نہیں کہ آگے کھڑے ہوں۔پس جب تک بچپن میں تربیت کامل نہ ہو آئندہ نسل اخلاق فاضلہ نہیں سیکھ سکتی اور نہ وہ دین اسلام اور احمدیت کے حامل ہو سکتے ہیں۔بچوں کو بچپن میں ہی خدا کے متعلق رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلیفہ وقت کے متعلق کچھ کچھ واقفیت کرانی چاہیئے۔سلسلہ کے نظام کا مختصر سا نقشہ ان کے ذہنوں میں قائم کرنا چاہیئے۔یہ مت سمجھو کہ بجے سمجھتے نہیں۔وہ بات کو خوب سمجھتے ہیں۔پچھلے دنوں ہم دریا پر گئے۔ایک فسان عورت کی لڑکی میرے پاس آئی۔اس کی باتیں بہت پیاری معلوم دیتی تھیں۔اور بعض دفعہ بہت۔سنجیدگی سے وہ باتیں کرتی تھی۔میں نے اس سے پوچھا۔۔۔تم کس کی بندی ہو؟ کہنے لگی میں خدا کی بندی ہوں۔پھر میں نے پوچھا۔مرید کس کی ہو یا جواب دیا خدا کی یہ میرے لڑکی امتہ العزیز پیشنکر ہنس پڑی۔میں نے اس سے پوچھا۔تم کیوں مہنسی ہو۔کتنے لگی۔یہ کہتی ہے میں مرید خدا کی ہوں۔میں نے اس سے پوچھا۔بتاؤ تم کس کی مرید ہو۔تو اس نے بڑے زور سے کہا۔میں ابا جان کی۔چونکہ اس کے کان میں یہ بات پڑتی رہی ہے اس لئے وہ اس لڑکی سے یہ شنکر که یکی خدا کی مرید ہوں سمجھ گئی کہ اس نے غلط کہا ہے۔تو یہ بات صحیح نہیں کہ بچہ سمجھے نہیں سکتا جس قسم کی بات بچے کے کان میں ڈالی جائے، وہ اپنی استعداد کے مطابق سمجھ سکتا اور سیکھ سکتا ہے ایگر اس کے ذہن میں دین کی سلسلہ کی مختصر باتیں ڈالی جائیں تو بچہ ان کو اپنے ذہن میں قائم رکھ سکتا ہے۔اور یہ مت خیال کرو کہ تم اگر بچپن میں بچے کی تربیت نہیں کرتے صرف اس خیال سے کہ تم نیک ہو اور وہ بھی نیک ہو جائیں گے۔تو اس طرح تم اپنے فرض سے سبکدوش