خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 87

AL جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اڑھائی برس کی عمر میں اپنے نواسے کی تربیت کی ہے اور اس کی حرکات کی نگرانی کی ہے تو کیا ہمارے زاسے بیچے ہیں کہ ان کی نگرانی نہ کی جائے اور یہ کب کر چھوڑ دیا جائے کہ بچہ ہے ناسمجھ ہے بڑا ہو کہ سمجھ جائے گا۔اگر یہ عمر سمجھنے کی نہ ہوتی تو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم بھی اپنے نواسے کے متعلق ایسا ہی کہہ دیتے۔مگر آپ نے اس کو ٹوکا اور اس کی حرکت کو نظر انداز نہیں کیا۔یہ کہہ دینے کے اکہ بچہ بڑا ہو کر خود سمجھے جائے گا، یہ معنے ہیں کہ اس بہانہ سے تم اپنی اولا کی تربیت اور اس کے اخلاق کی نگرانی نہیں کرنا چاہتے۔اور اس بات کو اپنی بے جا محبت کی وجہ سے اس کے لئے تکلیف دہ خیال کرتے ہیں۔حالانکہ دنیا کی کوئی قوم بھی اگر اپنی اولاد کی تربیت اور اخلاق کی درستی کا خیال نہیں رکھتی تو وہ کبھی زندہ نہیں رہ سکتی۔یورپ کے لوگوں نے اس گر کو خوب سمجھا ہے۔وہ خوب جانتے ہیں کہ اگر ہم اولاد کی تربیت اور اخلاق کی نگرانی نہ کریں گے تو ہماری قومی زندگی اور قومی ترقی بال نہیں رہ سکتی۔ان کے چھوٹے بچے ماؤں کے ساتھ گرجوں میں جاتے ہیں لیکن کیا مجال کہ وہ وہاں اونچی آواز نکالیں۔عبادت گاہوں کا ایسا احترام ان کے دلوں میں بٹھایا ہوتا ہے کہ وہ ذرا شور و غل نہیں کرتے۔اور اگر کوئی بچہ شور کرے تو ماں باپ فورا اسے وہاں سے لے جاتے اور اس طرح تنبیہ کرتے ہیں کہ پھر وہ شور نہ کرے مگر یہاں کئی لوگ ہیں جو بچوں کو سجدوں میں لے آتے ہیں اور بچے دوران نماز شور مچاتے رہتے ہیں۔مسجد مبارک میں تو بچوں کو لانے سے میں نے روکا ہوا ہے۔دار الفضل کی مسجد میں جب ایسے لوگوں کو منع کیا گیا تو انہوں نے بُرا منایا اور کہدیا کہ وہ بچے ہیں بڑے ہو کر خود سمجھ جائینگے مگر یہ تربیت اولاد کے لئے نہایت مضر بات ہے۔آپ لوگ اپنے ارد گرد اور آس پاس کی قوموں کو دیکھیں کہ وہ اپنی زندگی قائم رکھنے کے لئے اپنی اولاد کی تربیت کا کس قدر خیال رکھتے ہیں۔یورپ میں میں نے دیکھا جو لوگ ہمیں ملنے کے لئے آتے۔ان کے بچے بھی ان کے ساتھ ہوتے۔لیکن ذرا کسی بچے نے رونی صورت بنائی وہ گھبرا گئے۔ذرا دیکھا کہ بچہ گھبرا گیا ہے اور رونے یا آواز نکالنے لگا ہے تو وہ جھٹ اس کو مجلس سے اٹھکر لے جاتے۔بعض دفعہ ہم نے کہا بھی کوئی حرج نہیں ٹھہریں۔مگر انہوں نے کہا۔بچہ آواز نکالے گا جس سے دوسرے بُرا منائیں گے اور ان کو تکلیف ہوگی۔ایک دفعہ ہم چھتری دیکھنے کے لئے گئے جو ہندوستانی سپاہیوں کی یادگار میں وہاں بنائی گئی ہے سمندر کے کنارے چار پانچ ہزار آدمی جمع تھے۔اور ہزار بارہ سو لڑکے لڑکیاں ہوں گے مگر بالکل خموشی کا عالم تھا۔کوئی بات بھی کرتا تو آہستہ سے۔لیکن ہمارے ہاں معمولی اجتماع میں بھی ایک شور برپا اور