خطبات محمود (جلد 2) — Page 77
قرآن کریم پڑھتے ہیں مگر پھر بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کیا اس کے غلاموں جیسے بھی نہیں بنتے محمد صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے غلاموں کا تو بڑا درجہ ہے مگر حضرت ابراہیم علیہ اسلام اور ان کے غلاموں جیسے بھی نہیں بنتے۔اسی فقرہ سے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خدا العالے نئے فرمایا کہ جاؤ ہم نے تمھیں لوگوں کا امام بنا دیا۔مگر آوروں پر ایسا اثر نہیں ہوتا۔اس کی وجہ یہ ہے کو محض حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے دل کا اثر اور کیفیت تھی جی نے اس فقرہ سے ایسا اللہ تبول کیا کہ آپ ابہ اہیم بن گئے اور الیسا در جدا اور رتبہ ملا کہ نہ صرف خود نبی بنے بلکہ نبیوں کے باپ ب بیتے حتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی احسان کے طور یہ آپ ہی کی نسل سے ہوئے اور بیٹا خواہ کتنا بڑا ہو جائے باپ کا ادب نہی کرتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان بہت ہی اعلیٰ اور ارفع ہے مگہ آپ نے یہی سکھایا کہ اللهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحمد و على الِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيم يا رسول كريم صلى اللّه علیه و آله وسلم عبودیت میں حضرت ابراہیم علیہ اسلام سے بڑھ کر تھے۔مگر اس لحاظ سے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام آپ کے باپ تھے یہ ادب ملحوظ رکھا تو خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ سلا کوده در جہ د یا کہ سب نبیوں کا باپ بنا دیا۔رسول کریم صلی الہ علیہ وآلہ وسلم آپ کی نسل سے ہوئے اور حضرت مسیح موعود رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت سے یہ عید کیا ہے اس فقرہ کی یاد ہے کہ خدا تعالے نے کہا۔اسلام اپنے آپ کو میرے سپرد کردے اور میرے لئے قربان کر دے۔حضرت ابا بیمہ علیہ اسلامہ نے کہا اسکمت۔میں نے اپنی جان آپ کے سپرد کردی۔اسی کی یاد میں یہ عید ہے اعمالی مونہ کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کہا گیا قربانی کے لئے بیٹا ناؤ اور انہوں نے وہ بھی میشیں کر دیا آپ سے وطن کی قربانی مانگی۔وہ بھی آپ نے دے دی۔غرض کہ ہر ایک پیاری سے پیاری چیز آپ نے خدا کے سنئے قربان کردی۔اسی کی یاد گار خیر ہے۔پس غیر یاد گار ہے اس امر کی کہ جو کوئی خدا کی بات کو سنتا اور اس طرح سنتا ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی بات کے لئے قلب کھول کر بیٹھتا ہے وہ گو مر جاتا ہے اور اس پر صدیاں گذریباتی مگر خدا اسے مرنے نہیں دیتا۔کیونکہ اس کی زندگی سے خدا تعالے کا کلام زندہ رہتا ہے۔ی نقرسی نصیحت ہے جو میں اس وقت کرنا چاہتا ہوں۔اس سے زیادہ میں اس وقت نہیں بول سکتا کیونکہ سینہ میں درد ہوتی ہے۔دوسرا خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا :- میں اس خطبہ کے طریق کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں میں طرح عید لوٹ لوٹ کر آتی ہے اسی طرح