خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 76

64 پس جب سننے والے قبولیت کا مادہ لے کر بیٹھیں اور سُنانے والا اخلاص سے سنائے تو یہ دونوں باتیں مل کر چھوٹی بات کو لمبی اور اہم بنا دیتی ہیں اور اگر یہ نہ ہوں تو لمبی بات بھی چھوٹی ہو جاتی ہے۔اصل بات یہی ہے کہ انسان اخلاص کولے کر اور دل کو صاف کر کے بیٹے تو چھوٹی سے چھوٹی بات کا بھی بڑا اثر ہوتا ہے۔دیکھئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چھوٹے چھوٹے فقروں نے صحابہ میں ایسے تغیرات پیدا کر دیئے کہ وہ ساری دنیا کے استاد بن گئے۔مگر آج لوگ بڑی لمبی لمبی تقریریں اور لیکچر سنتے ہیں مگر کورے کے کو رے ہوتے ہیں۔ومحبط اور لیکچر میں واہ وا اور سبحان اللہ کہتے ہیں مگر جب اٹھتے ہیں تو ان کے دل اسی طرح صاف ہوتے ہیں جس طرح دھوبی میل نکال کر کپڑا صاف کر دیتا ہے۔اور لمبے وعفوں اور خطبوں میں سوائے اس کے کہ لیکچرار کا زور اور وقت غریب ہو اور کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔میں اس وقت دوستوں کو یہی نصیحت کرنا چا ہتا ہوں کہ اگر تم ترقی کرنا چاہتے ہو، اگر اپنی اصلاح کی فکر رکھتے ہو ، اگر خدا تعالے کا قرب حاصل کرنا چاہتے ہو تو جو کچھ تمھیں سُنایا جائے کان کھول کر سنو۔منافقین کے متعلق آتا ہے۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں بیٹھتے مگر باہر جا کہ ایک دوسرے سے پوچھتے کیا باتیں ہوئی ہیں۔کیا وہ باتیں نہیں سکتے تھے سنتے تھے مگر بہروں کی طرح اور دیکھتے تھے مگر اندھوں کی طرح۔پس اگر کوئی خطبہ اور وعظ سنتا ہے مگر اس پراثر نہیں ہوتا یا دائمی اثر نہیں ہوتا تو اس خطبہ اور وعظ سننے کا کہ ئی فائدہ نہیں بلکہ وقت ضائع کرنا ہے۔تم اگر خدا کا قرب حاصل کرنا چاہتے ہو۔اگر اسلام سے فیض حاصل کرنا چاہتے ہو، اگر روحانی ترقی کرنا چاہتے ہو تو میری اس نصیحت کو یاد رکھو کہ خدا تعالے کی باتوں کو سننے کے لئے کان اور دل کھول کر بیٹھو۔کیونکہ اگر کانوں اور دل پر پر دہ ہو، تو خدا تعالے اپنی باتیجی نہیں سناتا اور اپنی ہتک سمجھتا ہے کہ وہ اپنی نعمت دے اور لینے والا دروازے بند کر کے بیٹھا ہو۔دیکھو اگر کوئی کسی کو اعلئے درجہ کا کھانا دے مگر وہ اسے پھینک دے تو پھر نہیں دیتا۔اسی طرح اگر خدا تعالے کی طرف سے نعمت آئے اور انسان کا قلب بند ہو تو پھر نہیں دیتا۔عید میں بھی ہمارے لئے ایسی ہی مثال ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کیا دوسروں سے زیادہ سنتے تھے پھر وہ کیا چیز تھی جس نے ان پر اثر کیا۔اور انہیں ابراہیم بنا دیا۔وہ یہی تھی قالی له به اسلِمَ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ العالمین نے خدا تعالے نے حضرت ابراہیم کو کہا مسلمان ہو جا۔انہوں نے کہا۔میں مسلمان ہو گیا۔یہ کتنا چھوٹا سا فقرہ ہے۔اور کیا اور لوگ یہ فقرہ نہیں سنتے۔یہ فقرہ بھی اور اس سے لاکھوں کروڑوں بڑھ کر بھی سنتے ہیں ، پڑھتے ہیں یعینی سارا