خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 398

٣٥٨ طریق دو سروں کے حقوق کو بھی ناجائز طور پر تلف کرنے والا ہے اور خود اپنی جماعت اورا کو بھی تکلیف میں ڈالنے والا ہے اس لئے میں نے کہدیا ہے کہ کسی کو انتظار میں مت بیٹھنے منتظمین پہلے پہلی صف والوں کو مصافحہ کرا دیں اور وہ با ہر علی بیا نے پھر دوسری صف والوں کو مصالحہ کرنا ہیں جب وہ باہر چلے جائیں تو تیری صف والوں کو مصافحہ کرائیں۔جب وہ باہر چلے جائیں تو جو بھی صف والوں کو مصافحہ کرائیں جتنے لوگ مصافحہ کو لیں ، کر لیں۔جو رہ جائیں رہ جائیں کسی کو یہ اختیار نہ ہو کہ وہ مرضی سے آگے جائے۔جو پہلی صف والا پہلے مصافحہ نہیں کرنا چاہتا وہ باہر جا کر بیٹھ جائے اور انتظا ر کرے پھر بعد میں اسے موقعہ مل جائے تو مصافحہ کرے ورنہ صبر کرے۔یہ عید جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا ہے قربانیوں کی عید ہے اور حضرت آئیل علیہ السلام کی یاد میں ہے۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ حضرت آمنجیل علیہ السلام کی قربانی یہ نہیں تھی جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ انہیں ذبح کرنے کے لئے حضرت ابراہیم نے زمین پر لٹا دیا تھا لیکن بعد میں خداتعالے سے الہام پا کر آپ نے ذبح کرنے کا ارادہ ترک کر دیا اور انہی اشارہ کی بنیاد پر ان کی جگہ ایک بکرا ذبح کر دیا۔میں بار ہا بنا چکا ہوں کہ در حقیقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسمعیل علیہ السلام کے وادی مگر میں چھوڑ آنے کے متعلق یہ رویا دکھائی نظمی تھی کیونکہ ایک بے آب و گیاہ وادی میں بیٹھے جانا بھی بہت بڑی قربانی ہے۔جیسے شروع شروع میں ربوہ میں چند آدمی جیسے لگا کر بیٹھ گئے تھے تاکہ اسے آباد کیا جائے یہ وہ آدمی در حقیقت اس وقت امیلی سنت کو پورا کر رہے تھے وہ صرف اس لئے یہاں میٹھے گئے تھے کہ آئندہ یہاں ربوہ آباد کیا جائے۔اگر وہ قربانی نہ کرتے اور ربوہ میں آکر جیسے لگا کر نہ میٹھے جاتے تو نہ یہ شہر بنتا نہ سڑکی نہیں نہ بازار بننے ، نہ مکانات بنتے اور یہ جگہ پہلے کی طرح چٹیل میدان ہی رہتی۔امریکہ میں جعفری تھنکنگ ( FREE THINKING ) کی سنخر یک پیدا ہوئی ہے اس کا بانی ایک فرانسیسی شخص ہے اس نے اپنا قصہ یہی لکھا ہے کہ میں ایک دن اپنے باپ کے ساتھ ایک پادری کا وعظ سنے گیا تو وہاں اس نے یہ کہا کہ ابراہیم بڑا نیک انسان تھا اس نے خدا کی خاطر اپنے اکلوتے بیٹے کے گلے پر چھری پھیر دی۔وہ کھتا ہے کہ اتفاق کی بات ہے میں بھی اپنے باپ کا اکلوتا بیٹیا ہی تھا میں وہاں سے نکل کر بھاگا۔میرے دل میں یہ خون پیدا ہوا کہ اگر میرے باپ کو یہ خطبہ سند آگیا تو وہ کہیں میری گردن پر بھی چھری نہ پھیر دے ، میں سمندر پر گیا وہاں ایک امریکہ جانیوالا جہاز کھڑا تھا ئیں اس میں گھس گیا اور کسی کو نہ میں چھپ کر میٹھے گیا۔اور اس طرح امریکہ پہنچ گیا۔یہاں میں گیا کو آکر میں نے یہ دہریوں والی تحریک جاری کی ہے۔غرضیکہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل علیہما السلام کی قربانی کو فل شکل میں پیش کیا جاتا ہے