خطبات محمود (جلد 2) — Page 397
ر فرموده ۱۹ جولائی ۱۹۵۷ء بمقام مسجد مبارک (بود) یہ عید عید الاضحیہ کہلاتی ہے یعنی اس میں جانور وں کی قربانیاں کی جاتی ہیں۔ہم قادیان میں اس طرح کیا کرتے تھے کہ قربانیاں جمع کرلیا کرتے تھے اور پھر ان کا گوشت تمام محفلوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے۔اور یہ انتظام اس لئے کیا جاتا تھا کہ تا قربانی کا گوشت بر غریب اور میرے گھر پہنچ جائے یہاں ابھی اس طریق پر انتظام مکمل نہیں ہوا لیکن چونکہ انڈونیشیا میں قادیان کے پڑھے ہوئے طالب تم گئے ہیں اس لئے وہاں جماعت نے یہ انتظام کیا ہوا ہے کہ ہر احمدی اپنی قربانی مرکز میں پہنچا دیتا ہے اور آگے قام احمدیوں کی لسٹ بنا لیتے ہیں اور ایک انتظام کے مانستان میں وہ تقسیم کردیا جاتا ہے۔اب یہاں فوری طور پہ تو سارا انتظام مشکل تھا تا ہم ایک بکرا تو میں نے قادیان میں کروا دیا اور پانچ دنوں کے متعلق یہ ہدایت دے دی ہے کہ انہیں ذبح کر کے ان کا گوشت پانچے محلوں کے عہدیداروں کو دے دیا جائے کہ وہ اپنے طور پر تقسیم کر دیں۔مگر ہونا یہاں بھی بھی چاہئیے کہ لوگ قربانی کا گوشت اکٹھا کہ ہیں اور ایک نظام کے تحت شہر کے لوگوں میں تقسیم کریں۔آخر یہاں بھی خدا تعالنے کے فضل سے جماعت بڑھ رہی ہے اور لوگ باہر سے بھی قربانیاں بھجوا دیتے ہیں۔کچھ مدت پہلے ربوہ میں یہ دستور رہا تھا کہ لوگ اپنی قربانیاں لنگر خانہ میں دیدیتے تھے۔مگر بر مهمان لنگر خانہ میں نہیں ٹھرا ہوتا۔کئی مہمان گھروں میں بھی ٹھہرتے ہیں اور پھر صرف مهمان ہی قربانی کے مستحق نہیں ہوتے بلکہ ربوہ کے مقیم لوگ بھی قربانی کے مستحق ہیں۔اس لئے انتظام ایسا ہی ہونا چاہئیے کہ گوشت اکٹھا کہ لیا جائے اور اس میں سے ایک مناسب مقدار لنگر کو دے دی جائے۔اور باقی گوشت تمام شہر کے لوگوں کی لسٹ بنا کر ان میں تقسیم کیا جائے۔گرمی کی شدت اور تکلیف کی وجہ سے میں نے آج مصافحہ کے لئے بھی بعض خاص ہدایات دی ہیں پہلے تومیں نے ہدایت دیدی تھی کہ مصافحہ نہیں ہوگا لیکن پھر میں نے خیال کیا کہ عید کے موقعہ پر فت درتی طور پر لوگوں کے دلوں میں یہ خواہش ہوگی کہ وہ مصافحہ کریں۔اس لئے میں نے مصافحہ کے لئے بعض ہدایات دے دی ہیں ان کے سانحہ منتظمین صف وار مصافحہ کرائیں گے لیکن کسی کو انتظار نہیں کرنے دیا جائے گا۔پچھلی عید پر میں نے دیکھا تھا کہ کوئی ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کرنا پڑا تھا۔لوگوں کو دھکے دے کہ آگے لایا جاتا تھا اور قریب اگر کوئی ادھر کھسک جاتا تھا کہ ئیں آخر میں مصافحہ کروں گا اور کوئی اُدھر کھسک جاتا تھا کہ کسی طرح اسے زیادہ موقعہ مل جائے۔یہ