خطبات محمود (جلد 2) — Page 346
سالم اور آپ کی اولاد کو دی گئی تھی۔دہی قسم برکت کی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کو طے۔اب با تیبل دیکھو کہ اس میں کس برکت کا ذکر ہے جو نمایاں طور پر حضرت ابراہیم کو دی گئی۔با تیل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکومت یا شریعت کی تکمیل کی برکت نہیں دی گئی تھی۔بلکہ انہوں نے اپنا اکلوتا بلیا خدا تعالے کی خاطر قربان کر دیا تھا گئیں جب یہ کہا جائیگا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس قسم کی برکت ملے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ملی تو اس کا اشارہ اس برکت کی طرف جائے گا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمایاں طور پر بلی اس کا اشارہ کسی مہم چیز کی طرف نہیں ہو سکتا۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ نسلاں آدمی نے رات کو یہ کام کیا ہے تو بھی ایسا ہی کہ۔تو وہ اس جیسا کام کب کر سکتا ہے کیونکہ اس نے ریمیا ہی نہیں کہ اس نے کیا کام کیا ہے۔اس طرح ہم کسی کو وہی کام کرنے کے لئے کہ سکتے ہیں ہو ہم نے دیکھا ہو۔پس جب اللهم صل على محمدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ على ابراهیم و عَلَى آلِ اِبرا هستیم کہا جاتا ہے۔اس سے وہ برکت مراد ہوتی ہے جس ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ کی اولاد کا اشتراک نمایاں طور پر پایا جاتا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کام کو نسا تھا جو آپ نے اور آپ کی اولاد نے اکٹھا کیا تھا۔اور ہمیں معلوم ہے کہ وہ کام آپ کا اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کرنا تھا۔اور بیٹے کا ذبح کے لئے تیار ہو جانا تھا۔یہی وہ بنیادی کام ہے جو باپ بیٹے دونوں نے کیا اور یہ ایک ہی کام ہے جو حضرت آدم علیہ السلام نے نہیں کیا تھا جو حضرت نوح علیہ السلام نے نہیں کیا تھا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سوا اور سرسے انبیاء علیہما السلام نے جن کو ہم جانتے ہیں نہیں کیا تو درجن انبیاء کا ہمیں علم نہیں ان کے متعلق بھی کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ انہوں نے یہ کام کیا ہو۔گویا کما صلیت کے الفاظ میں شمارت ذبح اسماعیل کا ذکر ہے کیونکہ یہاں وہ برکت ہے جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ کی اولاد دونوں شریک تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے اکلوتے بیٹے اسماعیل سے کہا میں نہیں خداتعانے کے حکم کے ماتحت ذبح کرنا چاہتا ہوں اور حضرت اسمعیل علیہ السلام نے کہا میں ذبح ہونے کے لئے تیار ہوں نہیں اسے تم ہمیشہ یہ دعا کرتے ہو اور اپنے منہ پر تھپڑ رسید کرتے ہو۔تم نماز میں یہ کہنے ہو اللہ تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دہی برکت دے جو تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اور ان کی اولاد کو دی یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹوں کو بھی قربان ہوئے کی توفیق دے۔پھر کہتے ہو الہی مجھے بھی اور میری اولاد کو بھی وہی قربانی کرنے کی توفیق عطا فرما