خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 345

۴۵ سم خیال کرتا ہے کہ اس کے پاس جو لوگ بیٹھے ہیں وہ سب غریب ہیں اور وہ انہیں کہتا ہے کہ میرے پاس پانچ۔ویسے ہیں۔اب اگر اس مجلس میں سے ایک امیر آدمی جو کروڑ پتی ہے لیکن وہ کنگال آدمی اسے نہ جانتا ہو وہ کسے جس طرح تمہارے پاس روپیہ ہے میرے پاس بھی روپیہ ہے تو اس کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ اس کروڈ پینٹی کے پاس بھی پانچ روپے ہیں بلکہ یہاں اس فقہہ کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ بھی روپے والا ہے۔حالانکہ یہ کروڑ پتی ہے اور وہ کنگال آدمی صرف پانچ روپے کا مالک ہے۔درود میں گما کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جیسے کما صلیت كَمَا صَلَّيْتَ ہے اور کما میں ما مصدر یہ ہے جس کے معنے ہیں تصلواتك على ابراهيم جس طرح تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر درود بھیجا، اے اللہ اسی قسم کا درود تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بھی بھیج۔گویا اس میں قسم کی طرف اشارہ ہے۔یعنی کوئی خاص قسم الفضل ہے جس کے متعلق خدا تعالے سے دعا کی گئی ہے۔کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی ہے۔یہاں درجہ کا سوال نہیں جس طرح" میں چھوٹا آدمی بھی آسکتا ہے اور بڑا آدمی بھی اسکتا ہے۔مثلاً ایک مسلمان یہ دعا کرتا ہے کہ اسے اللہ جس طرح تو نے غار ثور میں محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے ساتھی حضرت ابو حجرہ کو بچایا تھا اسی طرح تو مجھے بھی بچا۔تو اس میں قسم نجات کی طرف اشارہ ہوتا ہے یعنی وہ کہتا ہے کہ میرے حالات بھی محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات جیسے ہیں اس لئے جن صفات کا تو نے اس وقت اظہار کیا تھا اپنی صفات کا تو اب بھی اظہار فرما۔اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ تو مجھے بھی رسول اللہ نا دے۔پھر بعض دفعہ ایک مسلمان یہ بھی دعا کر لیتا ہے کہ اسے اللہ ! جس طرح تو نے بدر کے موقعہ پر رسول کریم مسلے اللہ علیہ وسلم کی مدد کی ملتی رہماری بھی اسی طرح مدد کر۔اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ میں بھی رسول ہوں۔اور میرے سامتی ابو بکر، عمر اور دوسرے صحابہ نہیں۔وہ صرف یہ کہنا ہے کہ میری تکلیف اسی قسم کی ہے۔اس لئے اسے خدا مجھ پر تو اسی قسم کی برکت نازل کر جس قسم کی برکات تو نے اس وقت نانہ لی کی تھیں۔ایک ماں اپنے بچے کو بھی روٹی دیتی ہے اور کتنے کے سامنے بھی روٹی ڈالتی ہے۔فرض کرو اس کے پاس دو روٹیاں تھیں جن میں سے ایک روٹی اس نے اپنے بیٹے کو دے دی اور ایک روٹی اس نے کتنے کے سامنے ڈال دی۔تو کیا اس کا بچہ اور کتا برابر ہو گئے ، کیا اس کی محبت بچے اور کتے سے ایک جیسی ہے ؟ گویا اگر اتنی چیز بھی مل جائے تب بھی درجہ ایک نہیں ہوتا اور یہاں تو صرف قسم ایک ہے درجہ ایک نہیں اللهُم جل عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْراهيم إِنَّكَ سَید مجید۔میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ایک قسم برکت کی ابراہیم علیہ السلام