خطبات محمود (جلد 2) — Page 332
۳۳۲ رکھتی ہے جیسے آج ہی اخبارات میں یہ اعلان ہوا ہے کہ آسٹریلیا کی پارلیمنٹ میں پاکستان کے ایک ممبر کو بھی بیٹھنے کی اجازت دی گئی ہے ہے اور یہ تیسری مثال ہے جبکہ آسٹریلیا کی پارلیمنٹ میں ایک غیر مبر کو بیٹھنے کی اجازت دی گئی۔اب دیکھو پارلیمنٹ میں ایک غیر ممبر کا بیٹھنا ممکن تو ہو گیا۔کیونکہ دو پہلے بیٹھ چکے تھے ایک یہ بیٹھ گیا مگر اس کو قانون نہیں کیا جاسکتا۔قانونی طور پر صرف پارلیمنٹ کا ممبر ہی پارلیمینٹ میں میٹھے سکتا ہے اور اسے کوئی روک نہیں سکتا۔بلکہ اگر کوئی رو سکے تو اس پر مقدمہ چل جاتا ہے۔عدالتیں بھی سیاسی مقدمات میں ایسے آدمی کی گرفتاری کو ناجائز سمجھتی نہیں کہاں اگر دیوانی یا فوجداری مقدمہ ہو جائے۔تو پھر اور بات ہے۔غرض قانونی طور پر ہماری جماعت کا ہی یہ دعوی ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہے۔باقی رہا استثنی ہو استثنی قانون کو توڑتا نہیں۔ہم کہتے ہیں۔وہ اختیار رکھتا ہے جس کو چاہیے بخش دے۔ہمارا ادعونی صرف اتنا ہے کہ ہم کو خدا تعالے نے بخشش کے لئے قانون بخشا ہے۔اور دوسرے لوگوں کو استثنا بخشا ہے ہم کر سکتے۔ہیں کہ اگر ہم اللہ تعالے کے احکام کی اتباع کریں۔تو لازمی طور پر ہم اللہ تعالے کی رضا حاصل کر سکتے ہیں۔لیکن دوسرے لوگ یہ نہیں کہہ سکتے وہ صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ اگر اللہ تعالے ہمیں بخش دے تو اس کا احسان ہے۔بہر حال اگر یہ سچی بات ہے کہ صرف ہم لوگ ہی اللہ تعالے کی رضا کی راہوں پر چلنے والے ہیں۔تو پھر ہمارے ذریعہ سے ابراہیم کی نسل دنیا میں پھیلی نہیں بلکہ وہ سمٹ گئی ہے۔کیونکہ کروڑوں کرو ڈلوگوں کے متعلق ہم نے کہ دیا کہ قانونا وہ رضاء الہی کے مستحق نہیں پس ہمیں فکر کرنا چاہیئے کہ ہمیں خدا نے کس انتہاء میں ڈال دیا کہ ایک عظیم الشان پیشگوئی جو دنیا کے کناروں تک ابراہیمی ذریت کے پھیلنے کے ساتھ تعلق رکھتی تھی وہ ہماری وجہ سے سمٹ کو رہ گئی اور ہمیں کوشش کرنی چاہیئے کہ اس پیشگوئی کے حلقہ کو ہم زیادہ سے زیادہ وسیع کریں۔تا کہ کوئی شخص ہمیں یہ طعنہ نہ دے کہ تم نے آل ابراھیم کو محدود کر دیا۔یہ اتنا بڑا کام ہے کہ اگر کوئی احمدی سوچے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کی راتوں کی نیت بھی آڑ جائے۔جب تک دنیا میں ان لوگوں کی اکثریت نہ ہو جائے جو اس قانون کے مطابق جس کو تم سچا سمجھتے ہو۔اللہ تعالے کی رضا اور اس کی خوشنودی کے وارث ہوں اس وقت تک تم صحیح معنوں میں اپنے فرائض کو ادا کرنے والے نہیں سمجھے جاسکتے۔یہ صحیح ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ تبلیغ اسلام صرف ہماری جماعت ہی کر رہی ہے۔یہ بھی صحیح ہے کہ عیسائی اور دوسرے غیر مذاہب کے لوگ ہمارے ذریعہ سے ہی اسلام میں داخل ہو رہے ہیں اور اس طرح اپنی تائید میں ایک عقلی دلیل ہمیں حاصل ہے۔مگر عقلی دلیل اور واقعاتی ولیل میں بڑا بھاری فرق ہوتا ہے عقلی طور پر بے شک ہم اسلام کو پھیلا رہے ہیں۔لیکن اگر اسلام کو ہمارے ذریعہ سے غلبہ حاصل نہیں ہوتا بلکہ ہماری آئندہ نسلیں اس کو