خطبات محمود (جلد 2) — Page 331
چکے ہیں۔ساتھ سال کا عرصہ کوئی معمولی عرصہ نہیں ہوتا۔پس ہمیں سنجیدگی کے ساتھ عوز کرنا چاہیئے کہ اتنے لمبے عرصہ میں ہم نے دنیا پر روحانی لحاظ سے غالب آنے کے لئے کیا کیا ہے ، بے شک خدا تعالے کا یہ وعدہ ہے کہ وہ ہماری جماعت کو غالب کرے گا مگر کبھی نہیں ہوا کہ خدا تعالے کسی دینی اور روحانی جماعت کو اشاعت دین کے لئے متواتر جد و جہد اور قربانیوں کے بغیر غلبہ عطا کر دے۔پس میں جماعت کو ایک دفعہ پھر ان کے فرائض کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔خصوصا یہ عید کا دن ایسا ہے جس میں ہمیں وہ وعدہ یاد دلایا گیا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کیا تھا کہ میں تیری اولاد کو دنیا کے کناروں تک پھیلاؤں گا۔ہم اس پیشگوئی کی یاد میں یہ دن مناتے ہیں۔مگر تعجب ہے ہم دنیا کے ایک کونے میں میٹھے ہیں اور بغیر اس بات کی منارہے ہیں کہ اللہ تعالے نے حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی اولاد کو ساری دنیا میں پھیلا دیا۔اگر یہ سچی بات ہے تو تم ہی حق پر ہو، اگر یہ سچی بات ہے کہ خدا تعالے کے دین کو ماننے کی تھیں ہی توفیق علی ہے تو تمھیں سوچنا چاہیئے کہ تم کس طرح خوش ہو کہ یہ کہ سکتے ہو کہ خدا تعا نے ابراہیم علیہ السلام کی پیشنگوئی پوری کردی۔اگر تم دنیا کے ایک کونے میں بیٹھے ہو تو خدا تعالے نے ابر استیم کی پیش گوئی پوری نہیں کی بلکہ اس کے پورے ہوتے ہوتے اس میں روک پیدا کر دی اور یا پھر تمہیں ماننا پڑے گا کہ تمہا ہے علاوہ بھی کچھ جماعتیں ایسی ہیں جو خدا تعالے سے تعلق رکھتی ہیں اور چونکہ وہ دنیا میں تھیلی ہوئی ہیں اس لئے ابراہیم کی پیشگوئی پوری ہو رہی ہے۔ایک طرف تمہارا یہ دخونی کرنا کہ خدا تعالیٰ کی رضا تم سے وابستہ ہے اور دوسری طرف تمہا را ابراہیم کی پیشگوئی کے پورا ہونے پر خوش ہونا حالانکہ تم دنیا کے ایک کونے میں سمیٹے بیٹھے ہو آپس میں کوئی مطابقت نہیں رکھتے۔جب قانونی طور پر بنی نوع انسان کو خدا تعالے کی رضا اسی صورت میں حاصل ہو سکتی ہے جب وہ احمدی جماعت میں داخل ہو جائیں تو ابراہیم کی پیشگوئی بھی اسی صورت میں پوری ہوسکتی ہے جب تم دنیا کے کونے کونے میں پھیل جاؤ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالئے یہ اختیار رکھتا ہے کہ وہ جس کو چاہے بخش دے مگر یہ استثناء ہے اور استثناء اور قانون میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ایک شخص اگر اپنے دوستوں کی دعوت کرتا ہے تو بعض دفعہ وہ کسی فقیر کو بھی کھانا کھلا دیتا ہے۔مگر اس کا فقیر کو کھانا کھلانا ایک استثنائی رنگ رکھتا ہے۔اسی طرح ہم یہ نہیں کتنے کہ خدا تعالے کسی اور کو پیش نہیں سکتا۔وہ استثنائی طور پر جس کو چاہیے بخش دے میگر قانونی طور پر صرف خدائی جماعتوں کا ہی یہ دعوئی ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ شامل ہونے سے اللہ تعالے کی رضا حاصل ہو سکتی ہے۔اگر کسی اور کو رھنا حاصل ہوتی ہے تو وہ غیر قانونی اور استثنائی رنگ