خطبات محمود (جلد 2) — Page 284
بذبح عظیم - ہم نے اس کی جگہ ایک اور ذبیحہ پیش کر دیا ہے اب سوال یہ ہے کہ وہ ذبیحہ کون تھا۔بائبل سے پتہ لگتا ہے کہ خدا تعالے نے اس کی جگہ مینڈھے کو قربان کرنے کا حکم دیا۔مگر سوال یہ ہے کہ جب رؤیا والی انسانی قربانی سے مراد حقیقی ربانی نہ تھی اور خدا تعالیٰ نے حضرت ابرا ہمیں اور حضرت سمعیل علیہما السلام کی نیت کو ہی دیکھ کر کہ دیا کہ بس تمہاری قربانی ہو گئی تو جانور کی قربانی کا حکم دینے کی ضرورت ہی کیا علی اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ انسانی قربانی کے رواج کو ہمیشہ کے لئے بند کر دیا اس سے پہلے لوگ انسانوں کی قربانی دیا کرتے تھے۔اور بڑے بڑے زاہد جو نیکی اور تقوی کی راہوں کو اختیار کرتے تھے اپنا آخری امتحان یہ سمجھتے تھے کہ اپنی اولاد کو خدا تعالے کی راہ میں قربان کر دیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اسی رواج کو مد نظر رکھتے ہوئے انسانی قربانی کے لئے کھڑے ہو گئے اور آپ نے رویا سے یہ مجھا کہ خدا تعا لئے کھتا ہے اپنے بیٹے کو قربان کردو اور اس خیال سے کہ غالبا اس رڈیا سے مراد ظاہری صورت میں بیٹے کی قربانی ہے وہ اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہو گئے مگر خدا تعالے نے اس سے منع کر کے بتا دیا کہ ہم آئیندہ کے لئے انسانی قربانی کا رواج بند کرتے ہیں اور یہ بھی بتادیا کہ اگر کوئی رویا میں اپنے بچے کو ذبح کرتے دیکھے تو اس کی جگہ دنبے کی قربانی کرے۔اور آج کے بعد انسانوں کی بی نے جانوروں کی قربانی کی جائے۔پس اللہ تعالے نے حضرت ابہ امیر علیہ السلام کوانسانی قربانی کے لئے اس لئے کہا تھا کہ اس طرح سے انسانی قربانی کو بن کر دئے۔پس ایک وجہ تو اس کی یہ ہے جو میں نے بار ہا بیان کی ہے۔مگر اس کی ایک اور وجہ بھی ہے اور وہ یہ کہ بعض جگہ لوگ جانی قربانی تو بڑے شوق سے کر دیتے ہیں مگر انہیں مالی قربانی سے دریغ ہوتا ہے۔جانی قربانی ایسی ہے جس کا ازالہ نہیں ہو سکتا اور مالی قربانی کا ازالہ ہو سکتا ہے پیس جہاں اللہ تعالے نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا امتحان لیا کہ وہ خدا تعالے کی راہ میں اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں یا نہیں اور جہاں خدا تعالے نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کا امتحان لیا کہ وہ اپنی جان کو میرے حضور پیش کر سکتے ہیں یا نہیں اور جہاں خدا تعالے نے انسانی قربانی کو آئندہ کے لئے بالکل منشوفع کر دیا اور فرمایا کہ آئندہ پیچھے مذہب میں انسانی قربانی نہیں ہوگی۔انسانی قربانی صرف جہاد کے موقعہ پر کی جائے گی بلاوجہ نہیں کی جائے گی وہاں دوسری طرف خدا تعالے نے یہ بھی کہ دیا کہ صرف جانی قربانی پر ہی خوش نہیں ہو جانا چاہیئے۔تم سے مالی قربانی کے مطالبے بھی کئے جائیں گے اور تمہارے لئے ضروری ہوگا کہ تم مالی قربانی بھی پیش کرو۔دنیا میں کئی ایسے زمانے آتے ہیں کہ لوگ جانی قربانی تو کرتے ہیں