خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 283

۳۵ و فرموده در نومبر لها بمقام باغ حفر ام المنان قادر انسان کی زندگی پر مختلف مواقع آتے ہیں کبھی اسے بڑی باتیں ضرور پا کستی پڑتی ہیں اور کبھی اسے چھوٹی باتیں ضرور نا کہنی پڑتی ہیں۔کبھی وہ چھوٹی بات کہتا ہے جو بظا ہر بڑی نہیں ہوتی مگر حقیقتاً بڑی ہوتی ہے اور کبھی وہ چھوٹی بات اس لئے کہتا ہے کہ کئی چھوٹی باتیں کہنی بھی ضروری ہوتی ہیں۔آج کی عید جو عید الاضحیہ کہلاتی ہے یہ وہ عید ہے جو حضرت ابراسیم علیہ السلام اور ان کے لڑکے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کی یادگار کے طور پر اسلام میں منائی جاتی ہے۔یہ وہ عید ہے جو ہر سچے مسلمان سے یہ اقرار لیتی اور اس سے یہ حمد کراتی ہے کہ اس کی زندگی اس کی جان اور اس کا مال صرف اللہ تعالے ہیں کے لئے ہے اور وہ ہر وقت اپنی جان اور اپنے مال کو قربان کرنے کے لئے خدا تعالے کے حضور حاضر ہے۔پس یہ عید اپنے اندر نہایت اہمیت رکھتی ہے اور یہ خدا تعالے کے سامنے مومنوں کے اخلاص کے اظہار کے لئے عظیم الشان مواقع میں سے ایک موقع ہے مگر آج میں اس عید کے سلسلے میں ان باتوں کے متعلق زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا سوائے ایک چھوٹی سی بات کے اور جو اس سے پہلے کسی حمید کے موقعہ پر یکیں نے بیان نہیں کی۔مگر آج بیان کرتا ہوں۔اور وہ بات یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو رڈیا میں نظر آیا کہ وہ اپنے بیٹے کی قربانی دے رہے ہیں۔تو آپ نے اپنے بیٹے حضرت سمعیل علیہ السلام سے اس کا ذکر کیا کہ رویا میں میں نے دیکھا ہے کہ میں تمھیں قربان کر رہا ہوں حضرت اسمعیل علیہ السلام نے اپنے باپ سے یہ شنکر اس پر آمادگی کا اظہار کیا اور کہا آپ اسے پورا کیجئے۔مجھے اس میں ہر گز عذر نہیں ہو سکتا اور میں بخوشی اس کے لئے تیار ہوں اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام چھری لے کر اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہو گئے آپ نے اپنے بیٹے کو زمین پر گرایا اور جب چھری چلانے لگے تو ذبح کرنے سے پہلے ہی اللہ تعالے نے فرمایا بس بس آیا تو اهِيمُ قَد صَدَّ تَتَ الر یا۔اسے ابراہیم علیہ السلام، تو نے اپنی خواب پوری کر دی۔اب اس قربانی کی ضرورت نہیں۔پھر اللہ تعالے نے فرمایا ہے وَفَدَيْنَاهُ با اخلاق کے مطابق غیر الہ قسمیہ کی نماز عید گاہ میں پڑھی جانتی تھی (الفضل ر نومبر ۱۹۳۶ء صدا مگر الفضل نومبر ڈالر ملا پر لکھا ہے کہ حضور نے نماز عید باغ حضرت ام المؤمنین میں پڑھائی (مرتب)