خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 262

به نظر تقلة قریب قرشی ہیں۔اور اس طرح تمام دنیا کی قریبا پانچ فیصدی آبادی ابراہیمی نسل سے ہے۔الله تعالے نے آپ کی نسل کو اس قدر صرف اس لئے بڑھایا کہ وہ اپنے آپ کو نیز اپنی اولاد کو اللہ تعالے کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے تھے یہ اور حضرت ابراہیم کی یہ قربانی ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے کہ اولاد قربان کرنے سے نسل بڑھتی ہے۔اور اگر کوئی چاہتا ہے کہ اس کی نسل بڑھے اور پھیلے اور اسے اور اس کی نسلوں کو عزت ملے تو اس کا طریق یہ ہے کہ اپنی اولاد کو دین کی راہ میں قربان کر دیے۔یہ ایک ایسا گر ہے کہ ہمارے دوستوں کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کی نسلیں دنیا پر چھا جائیں اور ہزاروں سال تک ان کا نام شوت کے ساتھ زندہ نہ ہے تو وہ اُسوہ ابراہیمی پر عمل پیرا ہوں۔حضرت ابراہیم کیا تھے ایک معمولی رئیس تھے۔جن کے پاس شاید چار پانچ سو بکریاں ہوں گی ، سو دو سو اونٹ ہوں گے جو آج ہزاروں لوگوں کے پاس ہیں۔مگر ان کا کسی کو علم بھی نہیں ہوتا لیکن حضرت ابراہیم کی پاو ساری دنیا میں قائم ہے۔اس لئے کہ اللہ تعالے نے ان کی نسل کو وسعت دی اور اب تو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ان کا ہاتھ دے کر ان کی روحانی اولاد بھی بہت سی بنا دی ہے اور اس طرح اور بھی غلات قائم کر دی۔آج یہ تو ہو سکتا ہے کہ کوئی یہودی حضرت ابراہیم کے لئے گالی برداشت کرے مگر کوئی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا۔یہودی آپ کی ذریت سے ہیں مگر کوئی یہودی آپ کے لئے روزانہ دعا نہیں کرتا ہوگا۔لیکن مسلمان دن میں پانچ وقت اللهمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ ابراھیم کہتا ہے اور اس طرح آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت ابراہیم کے لئے بھی دعا کرتا ہے۔یہ برکت حضرت ابراہیم کو اس قربانی کی وجہ سے ملی۔اور یہ بات یاد رکھنی چاہیئے که حضرت ابراہیم کے ساتھ اللہ تعالے کا کوئی رشتہ نہ تھا جو ان کو اتنی برکت دیدی۔شخص جو آپ کے نقش قدم پر چلے اور اپنے نفس اور اپنی اولاد کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کردے ان برکات سے حصہ پاسکتا ہے جو اللہ تعالے نے حضرت ابراہیم کو عطا کیں۔پس اس عید سے یہ سبق سیکھا جائے تو یہ ہمارے لئے خوشی کا موجب ہو سکتی ہے۔ورنہ یہ ہمارے لئے خوشی کا نہیں بلکہ علامت کا ذریعہ ہے۔اللہ تعالے نے ایسا انتظام کیا ہے کہ ہر سال یہ عید آکر ہمیں اپنے فرض منصبی کی طرف متوجہ کرتی ہے مگر ہم پھر بھول جاتے ہیں۔پس دوستوں کو یہ سبق اچھی طرح یاد رکھنا چاہئیے اور کوشش کرنی چاہیئے کہ حضرت ابراہیم کے نقش قدم پر چلیں۔اللہ تعالے ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے ، میں اسی پر خطبہ کوختم کرتا ہوں۔