خطبات محمود (جلد 2) — Page 261
۲۶۱ کی ملازمت عطا فرمائی تھی۔وہ چھوٹی تو آپ نے اپنے وطن میں پر یکیش شروع کی لیے وہاں آپ کی بہت شہرت تھی۔آپ کا وطن بھیرہ سرگودھا کے ضلع میں ہے جہاں بڑے بڑے زمیندار ہیں اوران میں سے اکثر آپ کے بڑے معتقد تھے۔پس وہاں کام چلنے کا خوب امکان تھا۔لیکن آپ حضرت سیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام سے ملنے قادیان آئے چند روز بعد جب واپسی کا ارادہ کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا کہ دنیا کا آپ بہت کچھ دیکھ چکے ہیں۔اب یہیں آبیٹھئے۔نے آپ نے اس ارشاد پر ایسا عمل کیا کہ خود سامان لینے بھی واپس نہیں گئے بلکہ دوسرے آدمی کو بھیج کر سامان منگوایا۔اس زمانہ میں یہاں پریکٹس چلنے کی کوئی امید ہی نہ تھی۔بلکہ یہاں تو ایک پیسہ دینے کی حیثیت والا بھی کوئی نہ تھا مگر آپ نے کسی بات کی پرواہ نہیں کی۔پھر بھی آپ کی شہرت ایسی تھی کہ باہر سے مریض آپ کے پاس پہنچ جاتے تھے۔اور اس طرح کوئی نہ کوئی صورت آمد کی پیدا ہو جاتی تھی کیا مگر حضرت مولوی عبد العریمہ صاحب کی قربانی ایسے رنگ کی تھی کہ کوئی آمد کا احتمال بھی نہ تھا۔نہ کہیں سے کسی فیس کی امید تھی نہ کوئی تنخواہ محنتی اور نہ وظیفہ کسی طرف سے کسی آمد کا کوئی ذریعہ نہ تھا، مگر وہ حضرت مسیح موجود علیہ الصلوۃ و السلام کے سیکرٹری کے طور پر کام کرتے تھے۔اس وقت جتنے کام تمام محکمے کر رہے ہیں یہ سب وہ اکیلے کرتے تھے۔حالانکہ گزارہ کی کوئی صورت بھی کیے اور یہ بھی واد کی غیر ذی زرع میں جان قربان کرنے والی بات ہے۔اور بھی کئی ایسے لوگ ہیں۔اب تو یہاں بعض ملازمتیں نکل آئی ہیں اور صنعت و حرفت کے بعض کا م بھی چل پڑے ہیں۔تمہارت نبی کچھ نہ کچھ ہونے لگی ہے گولا ہور، امرت سر وغیرہ بڑے شہروں کی طرح تو نہیں مگر پھر بھی گزارہ کی صورت پیدا ہو گئی ہے۔لیکن ابتداء میں ان چیزوں میں سے کچھ بھی یہاں نہ تھا۔اور اب بھی دوست اگر اپنی قربانیاں جاری رکھیں تو موجودہ حالت بھی ترقی کے لئے بیج بن جائے گی۔یہ اللہ تعالے کی سنت ہے۔کہ وہ ہر ربانی کو جو انسان کرتا ہے آئندہ ترقیات کے لئے بیج کی حیثیت دے دنیا ہے۔کئی لوگوں کی قربانیوں کی مثال بوڑھے درخت کی ہوتی ہے جو صرف اپنے آپ کو ہی فائدہ پہنچاتے ہیں۔کئی ایک کی مثال جوان پھلدار درخت کی ہوتی ہے جو کچھ نہ کچھ فائدہ دنیا کو بھی پہنچاتے ہیں۔مگر کئی ایک کی مثال اس بیچ کی سی ہوتی ہے جس میں سے سو سو ، دو دو سو دانے پیدا ہو سکتے ہیں۔ایسی ہی قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت آمیل علیہ السلام کی قربانی کی طرح ہوتی ہے۔اور کوئی انسان مبتنی استقسیم کی مشربانی کرتا ہے اتنا ہی اللہ تعالے اس میں نشو و نما کی طاقت کو بڑھا دیتا ہے۔حضرت ابراہیم نے جب قربانی کی تو اللہ تعالے نے کہا کہ آسمان کی طرف دیکھ جس طرح آسمان پر ستارے بے شمار ہیں اسی طرح دنیا میں تیری نسل بھی بے شمار ہوگی بلکہ آج دنیا میں جدھر جاؤ ، حضرت ابراہیمیہ کی نسل نظر آتی ہے۔کروڑوں نیو دی ہیں ، پھر سید بھی چالیس پچاس لاکھ ہوں گئے کروڑ دو کہ واہ بیت