خطبات محمود (جلد 2) — Page 12
١٢ یہ باتیں دوسروں کے لئے بطور قصہ کہانی کے ہوں مگر ہمارے لئے نہیں ہو سکتیں کیونکہ ہم نے اپنی آنکھوں سے خدا کے ایک مناد کو دیکھا۔لوگوں نے چاہا کہ اُسے مسل دیں مگر وہ منظفر و منصور ہوا۔جو خاک اس چاند پہ ڈالنی چاہتے تھے وہ انہی لوگوں کے مونہوں پر پڑی۔پیلسلہ ایک سجیہ کے مانند تھا جس کے گرد کئی خونخوارہ شیر تھے۔جن کے مونہوں کو انسانی خون لگ چکا ہو۔حملہ کرنے کے لئے کھڑے ہوں۔جیب سے ایک ہاتھ نکلا اور اس نے شیر کے جبڑے کو چیر دیا پس اس عظیم الشان نصرت کے بعد ہم کیونکہ کہ سکتے ہیں کہ ہمارا مولئے ہمارے ساتھ نہیں۔اب جو انعامات میں کمی رہے گی تو اسی لئے کہ خود ہمارے عہدوں کے الفاء میں کوئی نقص ہوگا۔میں چاہیئے کہ خدا کے رستے میں دُکھ اُٹھائیں۔نفسوں کو قربانی کے لئے تیار کریں یعنی وہ پور طور پر خدا کی رضامندی کے نیچے ہوں۔ہم اُس کی راہ میں ہجرت کریں۔ہجرت سے مراد وطنوں کو چھوڑ دینا ہی نہیں۔ہجرت کیا ہے۔ان خیالات بد کو چھوڑ دیا جن میں پہلے تھے۔ان بڑے دوستوں کو چھوڑ دیا جو دینی ترقی میں حارج ہوں۔پھر ضرور ہے کہ ہم گھروں سے نکالے جائیں گھر سے مراد شستی کاہلی غفلت کا مقام چھوڑ دیا ہے۔پھر ہم میں یہ بات ہو کہ ہمیں محض خدا کے لئے خدا کی راہ میں دکھ دیا جائے۔جو منبع کامل ہو اس کو ضرور دکھ دیا جاتا ہے۔جو دنیا داروں کے دکھوں سے بچا رہے اُسے سوچنا چاہیئے کہ اس کے ایمان میں کوئی نقص تو نہیں دیکھو گاؤں میں کوئی سفید پوش جائے تو کتے اسے بھونکتے ہیں ، وہ اسے بیگا نہ سمجھتے ہیں۔اسی طرح جو دنیا کے کل مکروہات سے پاک ہو گا، دنیا پرست اس کی ضرور مخالفت کریں گے اور جس کی مخالفت نہ ہو اسے ضرور ان سے مناسبت ہے جبھی تو وہ اس کی مخالفت نہیں کرتے۔اگر مومن کے نفس کے اندر تبدیلی پیدا ہو اور وہ ہر طرح کی دنس سے پاک ہو تو کلاب الدنیا کا بھونکنا بھی اس کیلئے بطو لازم و ملزوم ہے۔کتا تو غیر جنس ہے اس کتے کو تو پتھر مارا جائے گا۔مگریہ کتے ایسے نہیں ہوتے کہ انہیں پتھر نارا جائے بلکہ ان کے لئے بھی علاج ہے کہ خوب ڈٹ کران کا مقابلہ کیا جائے اور نہ صرف اپنی حفاظت کریں بلکہ دوسروں کو بھی بچائیں۔پہلے تو تلوار کا جہاد تھا اس لئے قتتلوا وقت ہوا سے اور مراد تھی مگر اب تو دلائل کی شمشیر سے جہاد کرنے کا زمانہ ہے یہ اس لئے سب کو مقتول ہونا پڑے گا۔یعنی دین کی اشاعت میں ایسا انہماک ہو کہ اسی میں موت آجائے۔ایسے لوگوں کے لئے وعدہ الہی ہے کہ ان کی بدیاں چھپا دیجائیں گی۔ایسے آدمیوں پر یہ فضل الہی ہوتا ہے کہ اگر ان میں کوئی بدی فی الواقعہ بھی ہو اور اسے کوئی شائع کرنا چاہے تو خدا کا غضب اس پر نازل ہوتا ہے۔کیونکہ خدا تو اپنے بندے کی عزت قائم کرنا چاہتا ہے اور یہ اس عورت میں رخنہ ڈالتا ہے۔پس فرمایا ہے کہ میرے ساتھ کامل محبت کرو جس کا