خطبات محمود (جلد 2) — Page 124
۱۲۴ حضرت اسمعیل علیہ السلام نے جو قربانی کی یہ عید اس قربانی کی یاد گار ہے۔حضرت ابراہیم علیہ سلام کی ایک بیوی نے کہا کہ اسمعیل کے یہاں رہنے سے فساد کا خطرہ ہے کیا اور حضرت اسمعیل نے اس کو مٹانے کے لئے قربانی کو قبول کیا تو اللہ تعالے نے ہمیشہ کے لئے اس کو امن قائم کرنے والا بنایا۔اور اس کی اولاد کے ذریعہ دنیا میں مذہب اسلام نازل کر کے اس کو ہمیشہ کے لئے امن قائم کرنے والا قرار دیا۔اسلام کے معنے نہیں سلامتی۔اور اسلام سے تعلق رکھنے کا نام ایمان ہے بھیں کے معنے امن کے ہیں لہے چونکہ حضرت سمعیل علیہ السلامہ نے ایک گھر کا فسا دور کرنے کے لئے قربانی کی اللہ تعالے نے انہیں ساری دنیا کا امن قائم کر نیوالا بنا دیا۔حقیقت ہے اس قربانی کی اور جب تک اس کو نہیں سمجھا جاتا اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔تعجب ہے کہ بعض لوگ قربانی پر اعتراض کرتے ہیں اور اس کو اسراف قرار دیتے ہیں۔اور وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ کیوں نہ یہ روپیہ خدمت دین اور اشاعت اسلام کے لئے خرچ کیا جائے۔ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہیئے کہ خواہ یہ سوال نیک نیتی سے ہی کیوں نہ آ جائے پھر بھی یہ وسوسہ شیطانی ہے اور شیطان بعض اوقات دین کے معاملہ میں اچھی صورت سے بھی وسوسے ڈالتا ہے۔ایک جگہ ایک بزرگ کی دعوت تھی جب کھانا پینا گیا تو انہوں نے ہاتھ کھینچ لیا اور کھانے سے انکار کر دیا۔جب وجہ دریافت کی گئی تو کہا کہ چونکہ اس کھانے کی طرف بہت زیادہ رغبت ہو رہی ہے اس لئے میں نے اسے کھانا پسند نہیں کیا۔اب گو بھوت قبول کرنا سنت ہے مگر انہوں نے کہا کہ نفس کی اس قدر رغبت شک ڈالتی ہے کہ ضرور اس کھانے میں کوئی نقص ہے۔میزبان نے کیا۔اس میں کوئی نقص تو نہیں، یہ حلال مال ہے۔مگر انہوں نے کہا۔ضرورہ کوئی نقص ہوگا، تحقیق کی جائے۔غرض قصائی سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ میرا اونٹ مر گیا تھا میں نے سمجھا بہت نقصان ہوگا۔اس لئے اسے کاٹ کر بیچ ڈالا ہے۔تو شیطان بعض اوقات کسی کام کی زیادہ رغبت دلا کر بھی وسوسہ پیدا کرتا ہے۔بظا ہر تو دین کے رستہ میں مال خرچ کرنا بہت اچھی بات ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زبانیں میں دین زیادہ غریب تھا ، صحابہ کئی کئی نہ تخت تک بھوک کی وجہ سے پیٹوں پر پتھر باندھ رکھتے ہیں مگر باوجود اس غربت و افلاس کے وہ قربانی کرتے تھے تو اب اسلام کی خدمت کے خیال سے قربانی چھوڑنا کیونکہ جائز ہو سکتا ہے۔اسلام اور روحانیت کسی ایک چیز کا نام نہیں بلکہ کئی چیزوں کا نام ہے۔جس طرح آنکھ ، کان ، ناک غری که تمام اعضاء مل کر ایک خوبصورت اور مکمل انسان بنتا ہے اسی طرح روحانیت کے لئے کئی ایک چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔