خطبات محمود (جلد 2) — Page 123
١٢٣ دہی قومیں ترقی کر سکتی ہیں جو عملاً قربانی کرنے کی عادی ہوں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کو قربان کیا۔خدا تعالٰے نے ان سے وعدہ کیا کہ میں ہمیشہ کے لئے تیری ذریت کو قائم رکھوں گا۔اور جس طرح آسمان کے ستارے گئے نہیں جا سکتے، اسی شرح تیری اولاد بھی گئی نہیں جائے گی۔پھر جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو اس وادی غیر ذی نہ رٹ میں پھینک دیا، خدا تعالے نے اس کے بدلہ میں ان کی اولا دیں سے ایک شخص کو جنت کا آخری وارث بنایا۔وادی غیر ذی زرت اس کو کہتے ہیں جہاں سبزی نہ ہو۔اور جنت اس مقامہ کا نام ہے جہاں سبزی ہی سبزی ہولی گویا مکہ اور محنت و متضاد مقام ہیں۔مکہ کی زمین ایسی شور ہے کہ بعض لوگوں نے وہاں باغ لگانے کی کوششیں کی ہیں اور اس کے لئے لاکھوں روپے خرچ کئے ہیں اور دوسرے ملکوں سے میٹی لا کر ڈالی ہے۔مگہ کامیابی نہیں ہوئی۔یہ تو مکہ کی حالت ہے اور جنت وہ جگہ ہے جہاں سایہ کی اتنی کثرت جو کہ کبھی دھوپ نہ ہو۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کو ایسی جگہ ڈال دیا جہاں سایہ تک نہ تھا تو خدا تعالے نے کہا کہ میں تیری اولاد کو ایسی جگہ کا وارث کرونگا جہاں کبھی دھوپ نہ ہو گی۔اور اب کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہو سکتا جب تک حضرت امیل علیہ السلام کی اولاد کی غلامی نہ کرے اور ان سے جنت کی چابی نہ مانگے حضرت ہٹیل علیہ السلام کو وادی غیر ذی زرع میں رہنے کے نتیجہ میں اس جگہ کی وراثت عطا ہوئی جہاں کبھی دھوپ ہوتی ہے نہ خشکی۔اور یہ قربانی ہے جس کی یاد نہیں دلائی گئی ہے اور جن کی یاد تازہ رکھنے کے لئے ہم ترے قربان کرتے ہیں۔یہ قربانیاں عظیم الشان نشان میں جن کے اندر بڑی بڑی حقیقتیں مخفی ہیں۔جب تک ان کو پیش نظر نہ کھا جائے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔دیکھو جس شخص سے محبت ہو اس سے مصافحہ کیا جاتا ہے جو محبت کے اظہار کا نشان ہے اور اس کے معنی ہیں کہ دلوں میں باہمی کوئی کدورت نہیں۔یہ سچی محبت کا اقرابہ ہوتا ہے لیکن اگر کوئی شخص ہاتھ تو مل کے مگر دل میں کدورت رکھے تو اس سے مصافحہ کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔جو شخص محبت کے جذبات تو اپنے اندر پیدا نہ کرے لیکن مصافحہ کرے وہ بہودہ حرکت کرتا ہے۔پس جس طرح محبت اور شفو کی علامت مصافحہ ہے۔اسی طرح خدا تعالے سے محبت اور تحقیقی قربانی کی ظاہری نشانی یہ بکرے کی قربانی ہے۔یاد رکھنا چاہیے۔کہ قربانی بھی اسی شخص کی مفت ہو سکتی ہے جو خدا کے لئے اور اس کی رضا کے حصول کے لئے اپنے جان ومال اور اولاد کی قربانی کرنے پر بھی آمادہ ہو۔اور جو خدا تعالے کے لئے اس قربانی پر آمادہ نہیں ہوتا اس کے لئے کوئی عید نہیں وہ محض ظاہری شکل اختیار کئے ہو گئے۔