خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 426

$1948 426 خطبات محمود وہ مثلاً پولیس کے پاس جائیں اور ان سے کہیں کہ ہم فاقے مررہے ہیں تم ہمیں پاکستان پہنچا دو۔تو تم میں سے کوئی بھی ایسا نہ ہو جو کم از کم اپنے وطنوں میں رہنا پسند کرے۔اور اگر خود کشی جائز ہوتی اور تم میں سے کسی کے سامنے ایسا واقعہ پیش آجاتا تو وہ خود کشی کر لیتا۔ابھی بھی لاہور کے ذمہ بہت سی رقم باقی ہے۔مجھ سے وعدہ کیا گیا تھا کہ دوماہ کے اندر اندر یہ رقم ادا کر دی جائے گی مگر ابھی تک یہ ادا نہیں ہوئی۔مجھے بتایا گیا ہے کہ پچھتر فیصدی وعدے ادا ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک مجھے حساب نہیں ملا۔اگر پچھتر فیصدی وعدے ادا ہو چکے ہیں اور صرف پچیس فیصدی باقی ہیں تب بھی ان وعدوں کو بہت جلد پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اسی طرح بیرونی جماعتوں کے ذمہ سات آٹھ لاکھ روپیہ واجب الادا ہے۔میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس چندے کی طرف توجہ کریں اور اپنی غفلتوں کو دور کرتے ہوئے بار بار اس سوال کو اٹھانے کا موقع نہ دیں۔یہ چیز ایسی ہے کہ مجھے تو اس کے بیان کرنے سے بھی شرم آتی ہے۔اپنے لیے نہیں کیونکہ میں تو پہلے ہی اپنا وعدہ ادا کر چکا ہوں بلکہ تمہارے لیے۔اگر مجھے جماعت کی کمزوری کا خطرہ نہ ہوتا اور یہ ڈر نہ ہوتا کہ ان کے دلوں پر زنگ لگ جائے گا تو میں دوبارہ تحریک کرتا اور پھر اس میں حصہ لینے کے لیے تیار ہو جاتا۔لیکن میں ڈرتا ہوں کہ میں اگر ان وعدوں کو چھوڑ دوں تو لوگوں کے دلوں پر زنگ لگ جائے گا اور وہ نیکیوں سے محروم ہو جائیں گے۔اس لیے مجبوراً مجھے یہ تحریک کرنی پڑتی ہے۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے اپنے لیے نہیں دوسروں کے لیے۔اور جب میں اس بارہ میں تحریک کرتا ہوں تو مجھے شرم محسوس ہوتی ہے۔جیسے کسی کو اپنی عورت کے نگ کا ذکر کرنا شرمندہ کر دیتا ہے اسی طرح مجھے اس چندہ کی بار بار تحریک کرنا شرمندہ کر دیتا ہے۔مجھے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ میں جماعت کے عیوب کو کھول رہا ہوں۔کوئی اپنی عزیز چیز کے عیوب نہیں کھولنا چاہتا لیکن میں مجبور ہوں کیونکہ مجھے کام چلانا ہے۔اس لیے مجھے تحریک کرنی پڑتی ہے۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے فرائض کو سمجھیں اور اپنے وعدوں کو پورا کریں۔میرے خیال میں جماعت کا اکثر حصہ وہ ہے جو سمجھتا ہے کہ چونکہ ہم قادیان سے نکل آئے۔ہیں اس لیے اب حفاظت مرکز کا سوال ہی نہیں رہا۔اس غلط فہمی کی وجہ سے انہوں نے اس بارہ میں ستی سے کام لیا ہے اور اپنے وعدوں کی ادائیگی کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔حالانکہ حفاظت مرکز کا سوال اب اور بھی زیادہ اہم ہو گیا ہے اور یہ اُس وقت تک رہے گا جب تک قادیان ہمارے قبضہ میں نہیں آجاتا