خطبات محمود (جلد 29) — Page 419
$1948 419 خطبات محمود کہے اے زشت رواج میرے پاس سے ہٹ جا اور بدر و شیطان کو کہے اے میرے محبوب! میر قریب آجا تو اُس کا کیا علاج؟ پس میں جماعت کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے مقام قربانی کو بڑھانے کی کوشش کرے۔زندگی ایک کشمکش کا نام ہے۔اگر یہ کشمکش ختم ہو جائے تو زندگی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ایک مُردہ کوزندہ کے ساتھ باندھ دیا جائے تو کیا یہ پسندیدہ امر ہوگا؟ کیا تم دودھ میں پیشاب کا قطرہ ملا نا پسند کرو گے؟ کیا تم آئے میں گوبر ملانا پسند کرو گے؟ کیا تم پسند کرو گے کہ تمہاری پندرہ سولہ سالہ قربانی کے ساتھ تمہاری مُردہ قربانی بھی شامل کر دی جائے اور خدا تعالیٰ اسے قبول کر لے؟ موت تک جو حیات رہتی ہے، موت تک جو قربانی رہتی ہے موت تک جو سعی جاری رہتی ہے وہی خدا تعالیٰ کو منظور ہوتی ہے اور وہی انسان کے لیے برکتوں اور رحمتوں کا موجب ہوتی ہے۔انسانی زندگی کسی فرد کی زندگی کا نام نہیں انسانی زندگی قومی زندگی کا نام ہے۔انسانی زندگی تمہارے بیٹوں، پوتوں، پڑپوتوں اور پھر آئندہ نسلوں تک کی ایک متواتر زندگی کا نام ہے۔تمہاری یہ نیت نہیں ہونی چاہیے کہ تم صرف اپنے آپ کو سلامت رکھو بلکہ یہ نیت ہونی چاہیے کہ اپنے مرنے کے بعد اپنی اولاد میں بھی یہ روح پیدا کر جاؤ کہ وہ ہمیشہ خدمت دین میں لگی رہے۔اگر تم اس کام میں کامیاب ہو جاتے ہو تو تمہارے لیے اس سے زیادہ برکت والی اور کوئی چیز نہیں۔تم اپنے ماحول کی طرف مت دیکھو۔جو اس وقت تمہارا ماحول ہے صحابہ کا ماحول اس سے بہت زیادہ ادنی تھا۔تم میں سے غریبوں کے تن پر جو کپڑے ہیں وہ اُس وقت کے امیروں کے پاس بھی نہیں تھے، جو کھا نا تم اس وقت کھاتے ہو وہ اُس وقت کے امیر بھی نہیں کھاتے تھے۔اوّل تو اُس وقت اتنے کھانے ہی نہیں ہوتے تھے ، دوم اُس زمانے میں خوراک کم ہوتی تھی۔سوم اُن کو اکٹھا کھانے کی عادت ہوتی تھی۔ہر ایک کے پاس الگ الگ تھالی نہیں ہوتی تھی۔آجکل الگ ای الگ تھالی کا رواج ہو گیا ہے لیکن اُس زمانہ کے لوگ یہ پسند کرتے تھے کہ وہ ایک ہی تھالی سے کھائیں اور جب ایک ہی تھالی میں ہاتھ ڈالا جائے تو یہ نہیں ہوتا کہ کسی کے ہاتھ میں پلاؤ چلا جائے اور کسی کے ہاتھ میں دال۔پلاؤ آئے گا تو سبھی کے ہاتھ میں آئے گا اور اگر دال آئے گی تو سبھی کے ہاتھ میں آئے گی۔لیکن اس کے باوجود جو قربانی انہوں نے اُس وقت کی اُس کے مقابلہ میں اس زمانہ کے ایک بڑے سے بڑے آدمی کی قربانی بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔