خطبات محمود (جلد 29) — Page 403
خطبات محمود 403 $1948 فرانس میں بھی مبلغ بھیجے گئے مگر کامیابی کی کوئی صورت پیدا نہ ہوئی۔وہاں کے بھی مبلغ کو جو لاہور کے ہی ہیں کہا گیا کہ تم واپس آجاؤ تو انہوں نے بھی کہا کہ مجھے واپس نہ بلایا جائے میں یہاں اپنی کمائی سے کام کروں گا۔انہیں وہاں چھوڑ دیا گیا اور انہیں اپنے خرچ پر کام کرنے کی اجازت دی گئی۔اب وہاں بھی کام شروع ہو گیا ہے۔ان کی تار آئی ہے کہ اب وہاں بھی جلسوں اور تقریروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔پر لیس اور دوسرے لوگ بھی توجہ کر رہے ہیں۔آج ہی اطلاع ملی ہے کہ وہاں کی ایک سوسائٹی نے اقرار کیا ہے کہ اگر الہام کے متعلق مضامین لکھے جائیں تو وہ خود بھی ان کی اشاعت میں مدد کرے گی۔سوئٹزر لینڈ کا علاقہ پرانا پروٹسٹنٹ علاقہ ہے اور مذہبی تعصب کی خاص جگہ ہے۔جب ہمارے مبلغ وہاں گئے تو انہیں چیلنج دیا گیا تھا کہ دنیا کے ہر طبقہ میں اسلام پھیل سکتا ہے مگر اس جگہ نہیں پھیل سکتا۔مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں بھی ایک دو احمدی ہو چکے ہیں اور لوگوں کی توجہ بڑھتی جا رہی ہالینڈ میں سب سے زیادہ کامیابی ہوئی ہے۔وہاں جو احمدی ہوئے ہیں وہ تعلیم یافتہ ہیں۔سلسلہ کی تبلیغ بڑھتی جارہی ہے۔اس کے بعد جرمنی کا علاقہ ہے۔وہاں ہیمبرگ میں دس احمدی ہوئے ہیں اور ایک برلن میں۔وہ اکثر تعلیم یافتہ لوگ ہیں۔ان میں سے ایک نے اپنی زندگی دین کی خدمت کے لیے وقف کر دی ہے اور ان کی جدو جہد کے بعد وہ وہاں سے چل کر دینی تعلیم کے لیے لندن پہنچ گیا ہے اور امید ہے کہ دسمبر کے مہینہ میں وہ پاکستان پہنچ جائے گا۔وہ فوجی افسر ہیں ان کا منشا ہے کہ دینی تعلیم حاصل کر کے اپنے ملک میں یا جہاں انہیں مقرر کیا جائے تبلیغ کریں۔اسی طرح دو اور افراد کی طرف سے بھی ہالینڈ اور جرمنی سے وقف زندگی کے لیے درخواستیں آئی ہیں اور ہم ان پر غور کر رہے ہیں۔اگر فیصلہ ہو گیا تو وہ بھی اپنا نام خدمت دین کے لیے پیش کر دیں گے۔یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ میں پہلے ہمارا ایک مبلغ ہوا کرتا تھا۔اب ہمارے وہاں تین مبلغ تھے جن میں سے ایک فوت ہو گیا ہے۔اس کی جگہ ہم ایک اور مبلغ بھجوا رہے ہیں۔وہاں کی جماعت بہت منظم ہوتی چلی جاتی ہے۔وہاں کی جماعت کا سب قسم کا چندہ اب تمیں چالیس ہزار تک پہنچتا ہے۔ظاہری طور پر یہ کوئی بڑی چیز نہیں لیکن وہاں کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی یہ قیاس بھی نہیں کر سکتا تھا اور اب