خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 31

$1948 31 خطبات محمود اُن میں سے کتنے ہیں جو اپنے آپ کو دین کے لیے پیش کرنے کو تیار ہیں؟ ان میں سے کتنے ہیں جن کی تی زندگیاں دوسرے کی زندگیوں سے متمیز اور متبائن نظر آتی ہیں؟ اور ان میں سے کتنے ہیں جن کی کیفیت می ایک مجنون مبلغ کی سی ہے؟ ان میں سے بعض کو جب میں کوئی نصیحت کرتا ہوں تو اُن کے بڑے اُن کی تائید میں ہو کر کہتے ہیں کہ دین کا کام تو کریں مگر کھائیں گے کہاں سے؟ یہ سوال دنیوی انجمنوں اور دنیوی اداروں کے لحاظ سے تو ٹھیک ہے کیونکہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ کوئی دنیوی انجمن قائم نہیں رہ سکتی جب تک وہ دنیاوی قوانین کے مطابق نہ چلے، اور کوئی ادارہ نہیں چل سکتا جب تک وہ دنیوی قوانین کو نہ اپنا لے اور کوئی حکومت نہیں چل سکتی جب تک وہ اپنی رعایا کے خور و نوش کا انتظام نہ کرے۔اگر کوئی ادارہ رائج الوقت دنیوی قوانین کے خلاف قدم اٹھائے گا تو وہ ناکام رہے گا۔اگر کوئی انجمن دنیوی ذرائع کو ترک کر دے گی تو وہ قائم نہ رہ سکے گی اور اگر کوئی حکومت اپنی رعایا کا خیال نہ رکھے گی تو وہ دیر پا نہ ہوگی۔لیکن مذہبی سلسلوں میں اس قسم کا سوال پیدا نہیں ہوسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کسی سکول یا کالج کے ہیڈ ماسٹر یا پروفیسر تو نہ تھے کہ آپ کے ادارہ یا انجمن کو چلانے کے لیے ہمیں دنیوی قوانین کی اتباع کرنی پڑے۔بلکہ آپ خدا تعالیٰ کے نبی تھے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک پیغام لے کر آئے تھے۔حضرت داؤد علیہ السلام کہتے ہیں کہ میں نے کسی بزرگ کی اولا د کو سات پشتوں تک فاقوں مرتے نہیں دیکھا۔پس اگر سات پشتوں تک بزرگوں کی اولاد کا خدا تعالیٰ پر حق ہوتا ہے کہ وہ اسے فاقوں سے نہ مرنے دے تو کیا سات پشتوں تک بزرگوں کی اولاد پر خدا تعالیٰ کا کوئی حق نہیں ہوتا ؟ اُن پر یقیناً دوسروں کی نسبت زیادہ حق ہوتا ہے اور اُن کا فرض ہوتا ہے کہ وہ کم از کم سات پشتوں تک مبلغ بن کر دین کی خدمت کرتے رہیں۔پھر یہ کہنا کہ اگر وہ دین کی خدمت کریں تو کھائیں گے کہاں سے؟ کیا معنے رکھتا ہے۔میں کہوں گا وہ کھائیں گے اُسی باورچی خانہ سے جس سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھاتے تھے ، وہ کھائیں گے اُسی باورچی خانہ سے جس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کھاتے تھے۔پھر دُور کیوں جاتے ہو۔وہ کھائیں گے اُسی باور چی خانہ سے جس سے میں کھا رہا ہوں۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے مجھے ایک گھوڑی خرید کر دی تھی۔در حقیقت وہ خرید تو نہ کی گئی تھی بلکہ خفیہ بھیجی گئی تھی۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ میں