خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 30

$1948 30 خطبات محمود حکم کو پورا کرنے کے لیے زیادہ کوشش اور قربانی کرنی پڑے گی درختوں سے بچے پیدا نہیں ہوتے اسی کی طرح جب تک ہم بھی اُن ذرائع سے کام نہ لیں گے جو خدا تعالیٰ نے آسمانی جماعتوں کی کامیابی کے لیے ضروری قرار دے رکھے ہیں ہمیں بھی کبھی کامیابی حاصل نہ ہو سکے گی۔میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت بھی کسی حد تک مغربی تاثرات سے متاثر ہے۔ساتھ ہی ا یہ بھی دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنا خاندان بھی مغربی تاثرات سے محفوظ نہیں ہے۔دوسروں کو وعظ ونصیحت کرنے سے پیشتر یہ ضروری ہوتا ہے کہ اپنوں کو سمجھایا جائے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ 2 پہلے اپنے اقرباء کو سمجھاؤ۔آگے مانایا نہ ماننا اُن کا کام ہے۔انگریزی میں بھی مثل مشہور ہے کcharity begins at home یعنی صدقہ و خیرات پہلے گھر سے شروع ہوتا ہے۔اسی طرح وعظ و نصیحت بھی گھر سے ہی شروع ہونا چاہیے۔اگر اقرباء مان جائیں تو بہتر ورنہ اُن کے نہ ماننے کی صورت میں سمجھانے والا بری الذمہ ہو جاتا ہے۔آخر حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے نے بھی نہیں مانا تھا اور بہت سے دوسرے انبیاء کی اولا دوں یا اُن کے اقرباء میں بھی اس قسم کی مثالیں ملتی ہیں۔اب اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد میں سے بھی کوئی نہ مانے اور حضرت نوح کی اولاد بننا چاہے تو اُس کی مرضی۔میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے اپنے خاندان کے بعض نوجوانوں کے اندر بھی دین کی خاطر وہ رغبت اور شوق نہیں پایا جاتا جس کا اُن کے اندر پایا جاناضروری ہے۔ہمیں یہ نظر آرہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک ایسا پیغام لے کر آئے تھے جسے ہم نے ساری دنیا تک پہنچانا ہے اور ایسے مخالف حالات میں پہنچانا ہے جو پہلے کسی اور جماعت کو پیش نہیں آئے۔اس لیے ظاہر ہے کہ یہ کام بہت سے آدمی بھی آسانی کے ساتھ سرانجام نہیں دے سکیں گے۔بہت زیادہ آدمیوں کو بھی بہت زیادہ قربانیاں کرنا پڑیں گے۔یہ ایک چھوٹا سا اور سیدھا سادھا مسئلہ ہے اس میں کوئی مشکل لاینحل عقدہ نہیں کہ اڑھائی ارب دنیا کی ہدایت کے لیے اور اس اڑھائی ارب کی ہدایت کے لیے جو مادیات سے بالکل مغلوب ہو چکی ہے بہت زیادہ قربانیوں کی ضرورت ہے۔ان حالات میں جبکہ اس وقت بہت زیادہ تعداد میں مبلغین کی ضرورت ہے سب سے مقدم فرض قربانی کا خاندانِ حضرت مسیح موعود پر عائد ہوتا ہے لیکن ہمارے خاندان کی جونٹی پو دنکل رہی ہے