خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 359

$1948 359 خطبات محمود جائے اور ہمیں یہ جگہ چھوڑنی پڑے تو کیا وہ شخص جو اس کے چھوٹ جانے کا اتنا صدمہ محسوس کرتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ نئے مرکز کی ضرورت نہیں، عارضی مرکز کی ضرورت نہیں کیا اُس کے دل میں قادیان کی اتنی بھی محبت نہیں ہوگی کہ وہ اس کی خاطر اپنا مکان قربان کر دے؟ پس اگر قادیان واپس مل جائے تو ہمیں ان مکانات کی زیادہ قیمتیں مل سکیں گی۔پھر روحانی نظریہ سے لو، اگر ہمیں یہ مکان چھوڑ نے پڑیں تو ہزار دفعہ چھوڑ نے پڑیں جہاں انسان کی محبت کی چیز ہوتی ہے وہاں انسان والہانہ طور پر جاتا ہے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت میں جب میں قادیان سے باہر جاتا تھا اُس وقت ریل وغیرہ نہیں ہوتی تھی۔میرے ساتھ کئی دفعہ ایسا واقعہ ہوا ہے بچپن کی وجہ سے میں پہلا واقعہ بھول جاتا تھا۔اُس وقت بٹالہ قادیان میں اگے چلتے تھے۔جب کبھی میں بٹالہ سے قادیان جاتا اور قادیان قریب آجا تا تھا تو مجھے محبت کی وجہ سے جوش آجاتا۔میں خیال کرتا تھا کہ ا گا والا گھوڑے کو تیز نہیں چلاتا۔یہ شرارت کرتا ہے۔کئی دفعہ ایسا ہوا کہ میں انکا چھوڑ کر پیدل دوڑ پڑا۔مگر جب گھوڑا آگے بڑھا تو میں پھر اگا پر بیٹھ گیا اور اپنی غلطی محسوس کی اور ایسا متواتر ہوا۔ایسا ہی اور دوسرے دوست محبت میں کرتے تھے۔جب قادیان ملے گا تو ہم مکانوں کی پروا نہیں کریں گے۔ہم مکانوں کو خدا پر چھوڑ دیں گے اور وہاں دوڑ کر پہنچیں گے۔جو شخص اپنی چیز کو خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیتا ہے وہ کبھی گھاٹا نہیں کھاتا۔اس تذبذب اور تر ڈ کا باعث بے ایمانی ہے۔خدا تعالیٰ کی راہ میں جانے والوں کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ظاہر میں اگر چہ نقصان نظر آتا ہے مگر اصل میں نقصان نہیں ہوتا۔تم لوگ تو بیعت میں داخل ہو۔جو لوگ بیعت میں شامل نہیں تھے وہ بھی ایسے خیال دل میں نہ لاتے تھے۔چاچڑاں شریف والے بزرگ جو بہاولپور کے نوابوں کے پیر تھے وہ ایک دفعہ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔نواب صاحب بھی وہاں تھے۔اُس وقت آتھم کی پیشگوئی کا وقت گزر گیا تھا۔اُس مجلس میں یہ باتیں ہونے لگیں کہ پیشگوئی کا وقت گزر گیا ہے آتھم نہیں مرا، مرزا ذلیل ہوا ہے۔پیر صاحب جیسا کہ اُن کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لائے ہوئے تھے۔مگر بیعت نہیں کی تھی۔تھوڑی دیر تو آپ خاموش رہے۔پھر آپ نے سر اٹھایا، آپ کی آنکھوں میں ایک اضطراب کی حالت تھی۔آپ نے فرمایا کون کہتا ہے کہ آتھم نہیں مرا۔مجھے تو اُس کی