خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 358

$1948 358 خطبات محمود اور ایک ہتھوڑا بھی ساتھ لاؤ۔اُن دنوں سات وزیر ہوتے تھے۔اُس نے اپنے ساتوں وزیروں سے کہا کہ اس موتی کو توڑ ڈالو۔وزیروں نے کہا ہم حضور کے خیر خواہ ہیں، نمک خوار ہیں ، ساری عمر ہم آپ کے احسانات کے نیچے رہے ہیں۔اب ہم آپ کے بدخواہ کیسے بن جائیں۔اس موتی کی وجہ سے آپ کی دوسرے بادشاہوں میں شہرت ہے اور ہم اسے توڑ دیں؟ بادشاہ نے کہا آپ نے بہت اچھا کیا۔یہ وزیر اعظم نے کہا اور پھر سب وزیروں نے یہ بات دہرانی شروع کر دی۔جب ساتوں وزیر یہ بات کہہ چکے تو بادشاہ نے ایاز کو بلایا اور کہا اسے توڑ دو۔ایاز نے جیسے کرکٹ کے بلے کے ساتھ گیند کو مارا جاتا ہے ہتھوڑا مار کر موتی چکنا چور کر دیا۔وزیروں نے کہا کیا ہم نہیں کہتے تھے کہ یہ آپ کے بدخواہ ہیں؟ بادشاہ نے ایاز سے کہا کیا تجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ موتی لاکھوں لاکھ کا ہے؟ اس نے کہا ہاں مجھے معلوم ہے۔پھر بادشاہ نے پوچھا کیا تو نے سنا ہے کہ اس موتی کی وجہ سے میری دوسرے بادشاہوں میں بہت عزت تھی ؟ ایاز نے کہا ہاں مجھے معلوم ہے۔بادشاہ نے کہا پھر تم نے اس موتی کو کیوں توڑ دیا؟ ایاز نے کہا بادشاہ کی اطاعت کے مقابلہ میں ایک موتی تو کیا ہزار موتی بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔بادشاہ کا تین چار لاکھ کا قیمتی موتی تو ٹوٹ گیا مگر ایاز جیسا قیمتی موتی ظاہر ہو گیا اور اس کی قیمت ظاہر ہو گئی۔وزراء کو ماننا پڑا کہ ایاز قابل قدر تھا۔ہمارا اس طرف ذہن نہیں گیا۔پس قادیان ہمیں پیارا ہے۔حقیقت میں ہماری محبتیں اس کے ساتھ وابستہ ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عزت اس سے بہت زیادہ قیمتی ہیں۔ہمیں چاہیے کہ ہم جمع ہو کر اپنا کام کرنا شروع کر دیں اور اگر سو دفعہ بھی ہمیں مرکز چھوڑنا پڑے تو کوئی پروا نہ کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے لا مرکزیت کے توڑنے کے لیے بھیجا ہے۔آپ کا کام مرکز کو قائم کرنا ہے۔اس لیے یہ ایک اہم چیز ہے۔ہمارا دائمی مرکز اگر چہ قادیان ہے مگر جب وہ فتح ہوگا تو کون ہوگا جو ہمیں وہاں جانے سے روک سکے اور ہم نہ جاسکیں؟ پھر سوال یہ رہ جاتا ہے کہ اس شہر کا کیا بنے گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو ہمیں خود مختلف مراکز کی ضرورت ہے۔ہمیں ہر علاقہ میں مرکز کی ضرورت ہے۔اور پھر دوسرے لوگ دگنی تگنی قیمت دے کر بھی یہ جگہ لینے کو تیار ہو جائیں گے۔لیکن میں کہتا ہوں اگر کوئی یہ قیمتیں نہ بھی دے تو کیا ہم خدا تعالیٰ کی خاطر اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ اپنے مکان بھی اس کی خاطر پیش کر دیں ؟ فرض کرو ہمیں قادیان مل