خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 326

$1948 326 خطبات محمود رہے۔ابھی تک ہماری جماعت کا بیشتر حصہ ایسا ہے جو چند عقائد کا نام جن کو اس نے مان لیا ہے احمدیت رکھ لیتا ہے اور وہی مرض جو پہلے مسلمانوں میں پیدا ہو گئی تھی اب احمدیوں میں بھی پائی جاتی ہے۔یعنی زبان سے کہہ دیا کہ خدا تعالیٰ بخشنے والا ہے اور کام کچھ نہ کیا۔خدا تعالیٰ نے ایک سلسلہ کو قائم کر کے جس سے وہ روحانیت کا انتشار چاہتا ہے، جس سے وہ صداقت کا انتشار چاہتا ہے، جس سے وہ اپنے دین کا غلبہ چاہتا ہے یونہی نہیں چھوڑ دیتا۔اگر اس سلسلہ کے ماننے والے خدا تعالیٰ کی عائد کردہ ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہیں تو وہ برکت پاتے ہیں اور اگر وہ خدا تعالیٰ کی عائد کردہ ذمہ داریوں کو پورا نہیں کرتے تو پھر وہ سزا پاتے ہیں۔یہ آیات جو میں نے پڑھی ہیں ان میں خدا تعالیٰ مسلمانوں کو توجہ دلاتا ہے اور فرماتا ہے اُدْعُ إِلى سَبِيلِ رَبَّك تو دنیا کو خدا تعالیٰ کے رستہ کی طرف بلا۔اس آیت میں کہا تو اُڈ ہے لیکن دراصل یہ مسلمانوں کی غیرت کو بھڑکانے کے لیے کہا گیا ہے۔اگر کوئی ایسا شخص جو قوم کا سردار ہو یا کوئی اور بڑا آدمی کوئی کام کرتا ہے تو اُسے کام کرتا دیکھ کر دوسروں کو بھی غیرت اور شرم آجاتی ہے۔آخر لوگ تبلیغ کیوں نہیں کرتے ؟ اسی لیے کہ وہ کہتے ہیں ہمارا وقت زیادہ قیمتی ہے۔لیکن اگر ان کا سردار اور ان کا آقا تبلیغ کرے تو کون بے شرم ہوگا جو اپنے آقا کو کام کرتا ہوا دیکھے اور پھر بھی وہ کام نہ کرے۔جو اپنے آقا کو تبلیغ کرتا دیکھے گا وہ خود بخود یہ سمجھ لے گا کہ اس کے آقا کا وقت اس سے زیادہ قیمتی ہے۔اگر اس کا آقا تبلیغ کرتا ہے تو وہ کیوں نہ کرے؟ مجھے یاد ہے ہم ابھی بچے ہی تھے۔تھوڑی آبادی کے گاؤں میں عموماً مزدور وغیرہ نہیں ملتے شہروں میں مل جاتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ لوگوں نے اپنے اپنے کاموں کے لیے کامے رکھے ہوئے ہوتے ہیں مگر یہ نہیں ہوتا کہ کسی وقت مزدور کی ضرورت ہو اور وہ مل جائے۔ابتدائی زمانہ میں چونکہ قادیان کی آبادی بہت کم تھی اس لیے قادیان میں بھی اُس وقت یہی طریق رائج تھا۔جب ی کوئی ایسا کام پڑ جاتا تھا جو گھر والوں سے نہیں ہو سکتا تھا تو اور لوگ آجاتے اور وہ کام کر دیتے۔کسی گھر میں اگر دو تین مہمان آجائیں تو ایک کھلبلی سی بچ جاتی ہے مگر وہاں تو ساٹھ ستر کے قریب مہمان رہتے تھے۔ان کی خدمت کے لیے مختلف سامانوں کی ضرورت ہوتی تھی، کھانا پکوانے کی ضرورت ہوتی تھی، سودا وغیرہ لانے کی ضرورت ہوتی تھی اور یہ ظاہر ہے کہ یہ کام صرف ہمارے خاندان کے افراد نہیں کر سکتے تھے۔اکثر یہی ہوا کرتا تھا کہ جماعت کے افراد مل ملا کر وہ کام کر دیا کرتے تھے۔اُس وقت