خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 325

خطبات محمود 325 $1948 اس کے بعد میں جماعت کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جب کسی سلسلہ کو کھڑا کرتا ہے ہے تو وہ چاہتا ہے کہ اُسے پھیلایا جائے۔اس لیے قائم نہیں کرتا کہ لوگ اسے مان کر گھروں میں بیٹھ جائیں۔مومنوں کو ثواب اسی چیز کا ملتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ کو پھیلانے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔جب تک یہ جذ بہ کسی جماعت کے افراد میں قائم رہتا ہے وہ بڑھتی چلی جاتی ہے اور جب یہ جذبہ ان کے دلوں سے نکل جاتا ہے تو اس قوم کی ترقی رک جاتی ہے۔جب مسلمان ہندوستان میں آئے تھے تو وہ چند افراد تھے۔انہوں نے تبلیغ کی اور ان کی تبلیغ کے ذریعہ سے مسلمانوں کی تعداد دو تین کروڑ ہوگئی۔پھر انگریزی حکومت کے زمانہ میں یہ تعداد آٹھ نو کروڑ تک جا پہنچی مگر جس ذریعہ سے ان کی تعدا دا بتدا میں دو تین کروڑ تک پہنچی تھی انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور اس سے غافل ہو گئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اس کے بعد جو آٹھ نو کروڑ تک بڑھے ہیں نسلاً بڑھے ہیں۔نئے لوگ ان میں شامل نہیں ہوئے إِلَّا مَا شَاءَ اللہ کوئی شامل ہو گیا ہو تو ہو گیا ہو ورنہ مسلمانوں کی یہ ترقی نسلاً ہی ہوئی ہے۔اس لیے نہیں ہوئی کہ انہوں نے غیر مسلموں کو تبلیغ کے ذریعہ اسلام میں داخل کر لیا تھا۔یہی وہ چیز تھی جس کی وجہ سے تقسیم ہند کا سوال اٹھا۔یہی وہ چیز تھی جس کی وجہ سے مسلمان اس دو را بتلاء میں سے گزرے جس کی مثال تاریخ میں بہت کم پائی جاتی ہے۔اگر مسلمان اسلام کو اس طریق سے پھیلاتے جس طریق سے پہلے لوگوں نے پھیلایا، اگر وہ اپنے آباء واجداد کی طرح تبلیغ کرتے رہتے تو ہندوستان میں مسلمانوں کی اتنی تعداد ہو جاتی کہ انہیں وہاں سے نکالنا مشکل ہو جاتا۔اور مسلمان ہندوؤں پر اتنا غلبہ پا جاتے کہ انہیں مسلمانوں کو نکالنے کی جرات نہ ہوتی بلکہ پارٹیشن (Partition) کا سوال ہی نہ اٹھتا۔اگر مسلمان تبلیغ کرتے رہتے تو جب انگریز آئے تھے ان کی تعداد دو تین کروڑ ہی نہ ہوتی سات آٹھ کروڑ ہوتی اور آج وہ نو دس کروڑ نہ ہوتے بلکہ اکیس کروڑ کے قریب ہوتے اور ان کا ہندوستان سے بھاگنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا بلکہ ہندو اپنی جانیں بچانے کے لیے ان سے الگ ہونے کا سوال کھڑا کرتے۔پھر اگر مسلمان تبلیغ کرتے تو انہیں وہ طاقت حاصل ہوتی کہ ہندو ان کے سامنے کوئی حیثیت ہی نہ رکھتے۔تبلیغ کے ذریعہ ان پر وہ برکات اور افضال نازل ہوتے جن سے اب یہ محروم ہو چکے ہیں۔اب خدا تعالیٰ نے اپنے دین کو پھیلانے اور اس کی شان وشوکت کو قائم رکھنے کا کام ہمارے سپرد کیا ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک ہماری جماعت کے افراد بھی اپنے فرائض کو سمجھ نہیں