خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 314

$1948 314 خطبات محمود کہ وہ ہمیں ہمارے گردو پیش سے ممتاز کر دیتی ہے تو اس صورت میں ہماری یہ ترقی ہماری خوشی کا موجب ہوسکتی ہے۔اور اگر ہماری ترقی ہمیں گردو پیش سے ممتاز نہیں کرتی تو یہ ہماری خوشی کا موجب نہیں ہو سکتی بلکہ یہ تو ذلت کا موجب ہے۔تب تو اس کے یہ معنے ہوئے کہ خدا تعالیٰ کے مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے والے نے تو چالیس نمبر لیے اور انسانی مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے والے نے اسی نمبر حاصل کیے۔یہ نتیجہ تو خدا تعالیٰ کو نَعُوذُ بِالله ذلیل کرنے والا نتیجہ ہے کیونکہ اس صورت میں خدا تعالیٰ کے شاگر دانسان کے شاگردوں سے کم نمبر لینے والے ہوئے۔جب تک ہم انسانی مدرسوں کے طالبعلموں سے اچھے نمبر حاصل نہ کریں اُس وقت تک ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارا نتیجہ کوئی اچھا نتیجہ ہے۔دوسرے ہمارے لیے یہ خوشی کا مقام اُس وقت ہو سکتا ہے جب ہم اتنی ترقی کر لیں جتنی ترقی ہمارے کھڑا کرنے والے کے منشا کے مطابق ہو۔ان دنوں میں چندہ کی مقدار اتنی کم ہو چکی ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کی وجہ کوئی اتفاقی حادثہ ہے جو بظاہر معلوم نہیں ہوتا۔ستمبر کے مہینہ میں صرف قائد اعظم کی وفات کی وجہ سے تین دن کی چھٹیاں ہوئی ہیں لیکن چندہ میں اتنا بڑا نقص واقع ہو گیا ہے کہ اگر اسی رفتار سے چندہ آتا رہا تو بارہ مہینے کی آمد سے صرف دو مہینہ کا خرچ بمشکل چل سکتا ہے۔اگست کے مہینے تک چندوں میں زیادتی ہوتی جا رہی تھی اور معلوم ہوتا تھا کہ جماعت اس تحریک میں حصہ لینے کے لیے کوشش کر رہی ہے اور اپنی ترقی کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔لیکن اس غیر معلوم حادثہ نے جماعت کو ترقی سے تنزل کی طرف منتقل کر دیا۔میں سمجھتا تھا کہ یہ کسی اتفاقی وجہ سے ہے اور جلدی ہی اس کی اصلاح ہو جائے گی لیکن آج ستمبر کی چوبیس تاریخ آچکی ہے اور ابھی تک چندوں میں کمی ہوتی جارہی ہے۔مثلاً بجٹ کے لحاظ سے ہماری روزانہ اوسط آمدن ساڑھے تین ہزار ہونی چاہیے۔اگر میری تحریک کا جو میں نے چندوں میں زیادتی کے لیے کی تھی لحاظ رکھا جائے تو روزانہ اوسط آمدن چھ سات ہزار ہونی چاہیے تھی لیکن کل جو آمدن ہوئی وہ صرف چھ سو رو پی تھی۔اس سے پہلے بعض دنوں میں اڑھائی سو تین سو اور چارسو آمد بھی ہوتی رہی ہے۔بعض دن ایسے بھی ہیں جن میں ہزار ڈیڑھ ہزار، دو ہزار تک بھی آمدن رہی ہے لیکن اگر روزانہ آمد کی اوسط نکالی جائے تو یہ چھ سات سو ہی رہ جاتی ہے۔گویا بجٹ کے لحاظ سے پانچویں حصہ سے بھی کم