خطبات محمود (جلد 29) — Page 313
$1948 313 خطبات محمود کے گھر میں خاکروبہ نے چار پانچ منٹ ہی لگانے ہوں تو وہ چار آنے یا آٹھ آنے بھی لے لیتی ہے۔ور نہ آجکل وہ ایک روپیہ ماہوار سے کم نہیں لیتی۔بڑے بڑے گھروں سے تو وہ دس دس روپیہ ماہوار لے لیتی ہے اور وہ پوری ملازم بھی نہیں ہوتی۔دن میں آٹھ دس گھروں کا کام کرتی ہے۔اگر پوری ملازم ہو تو تمیں تھیں چالیس چالیس روپیہ لیتی ہے۔گویا چوڑھے بھی ترقی کرتے جارہے ہیں اور چالیس سال کے اندر اندر انہوں نے اس قدر ترقی کر لی۔اسی طرح دوسری قوموں کو بھی دیکھ لو۔وہ بھی کچھ نہ کچھ ترقی کر رہی ہیں۔دھوبی کو لے لو۔دھوبی کے کام میں فن کی مہارت کی ضرورت نہیں ہوتی۔کسی زمانہ میں ایک دھوبی ایک روپیہ فی سینکڑہ کے حساب سے بڑی آسانی سے کپڑے دھودیتا تھا لیکن اب تو آٹھ دس روپیہ فی سینکڑہ بھی بڑی مشکل سے لیتا ہے۔غرض دنیا میں کوئی قوم بھی ایسی نہیں جس نے ترقی نہ کی ہو۔ہر قوم اور ہر چیز میں ترقی ہوئی ہے۔جو تو میں طبعی رفتار سے ترقی کرتی ہیں یہ اُن کا کمال نہیں گنا جاسکتا۔کسی قوم کا کمال یہ ہوتا ہے کہ اُس کی ترقی اُسے گردو پیش کے حالات سے ممتاز کر دے۔ویسے تو ہر قوم نے ترقی کی ہے اور ہر قوم بڑھی ہے لیکن ہم اگر کسی شخص کی تعریف کرتے ہیں تو اُس شخص کی تعریف کرتے ہیں جو ہزاروں سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہو۔سکول میں جو طالب علم جاتا ہے وہ کوئی نہ کوئی لفظ ضرور سیکھ لیتا ہے مگر ہم ہر طالب علم کی تعریف نہیں کرتے۔تعریف ہم اُسی طالب علم کی کرتے ہیں جو ہزاروں لڑکوں سے آگے بڑھ گیا ہو۔غرض ہر قوم ہی کچھ نہ کچھ ترقی کرتی ہے اس لیے ہم موجودہ ا پر خوش نہیں ہو سکتے۔ہمیں اس ترقی پر تسلی پا جانے کا کوئی حق نہیں۔ہمارا یہ بڑھنا اور ترقی کرنا ہماری تسلی کا موجب نہیں ہو سکتا۔کیونکہ دنیا کی ہر چیز جس میں زندگی کی رمق پائی جاتی ہے وہ بڑھ رہی ہے۔ہماری یہ ترقی ہمارے لیے اطمینان اور ترقی کا موجب اُس وقت ہو سکتی ہے جب ہم میں دو چیزیں پائی جاتی ہوں۔اول گردو پیش کی قوموں کی نسبت سے ہم سرعت سے بڑھ رہے ہوں۔دوم ہماری جماعت کے کھڑا کرنے والے کا جو منشا تھا ہم اس منشا کے مطابق بڑھ رہے ہوں۔اگر ہم میں یہ دونوں باتیں پائی جاتی ہیں تو پھر ہم قابل تعریف بھی ہیں اور ہماری ترقی ہمارے لیے اطمینان اور تسلی کا موجب بھی ہو سکتی ہے۔اگر ہم اللہ تعالیٰ کے منشا کو پورا کر دیتے ہیں جس کی خاطر ہماری جماعت بنائی گئی ہے، اگر ہم اتنی ترقی کر لیتے ہیں جو اُس کے منشا کے مطابق ہے اور اگر ہم اتنی ترقی کر لیتے ہیں