خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 280

$1948 280 خطبات محمود کی جماعتوں کو کب عزت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔وہ ہمیشہ ہی انہیں حقیر اور ذلیل سمجھتی ہے۔مگر وہ پتھر جسے حقیر سمجھ کر معماروں نے پھینک دیا تھا خدا تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ وہی کونے کا پتھر ہو اور اس عمارت کے لیے سہارے اور روشنی کا موجب ہو۔ہمیشہ یہی ہوتا آیا ہے اور اب بھی یہی ہوگا۔جب بھی خدا تعالیٰ کے مامور دنیا میں کوئی نئی تحریک لے کر آئے لوگ انہیں ذلیل اور حقیر ہی سمجھتے تھے۔لیکن جب بھی کوئی ایسی تحریک آئی مخالفین اُس کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکے۔اگر کوئی خطرہ ہوسکتا ہے تو محض ماننے والوں سے ہو سکتا ہے۔اتباع کے لیے اپنے دلوں میں بے ایمانی بڑھ جاتی ہے جو اس تحریک کے پھیلنے میں روک بنتی ہے۔دشمن خواہ کتنی مخالفت کرے وہ اس کے پھیلنے میں روک نہیں بن سکتا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں نے آپ کے خلاف کتنی کوشش کی مگر کیا وہ کامیاب ہوئے؟ وہ انصار پر بھی حملہ آور ہوئے۔اس لیے کہ انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں پناہ دی ہے۔لیکن وہ ان کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکے۔ہاں ان کی اپنی ایک غلطی نے انہیں بڑے بڑے انعامات سے محروم کر دیا۔مکہ فتح ہوا، طائف والوں نے ایک لشکر جمع کیا اور مسلمانوں سے لڑائی کی تیاریاں کیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے یہ مناسب سمجھا کہ آپ خود مقابلہ کے لیے باہر نکلیں۔آپ لڑائی کے لیے تشریف لے گئے۔نئے مسلمانوں اور کچھ کافروں نے بھی آپ سے عرض کیا یا رسول اللہ ! پہلے لوگوں نے بہت سی قربانیاں کر لی ہیں۔ہمیں بھی اب موقع دیا جائے کہ ہم اسلام کی خاطر لڑیں۔آپ نے اجازت دے دی اور دو ہزار کے قریب نئے مسلمان آپ کے ساتھ چل پڑے۔یہ لوگ آگے آگے تھے۔چونکہ یہ کمزور تھے اس لیے دشمن کے مقابلہ میں ثابت قدم نہ رہ سکے۔ان کے قدم اکھڑ گئے جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کو شکست ہوئی۔اسلام میں اگر کوئی جنگ خالص طور پر انصار نے لڑکی ہے تو وہ حنین یا ثقیف کی جنگ ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر میں جب تشقت اور افتراق دیکھا تو حضرت عباس کو حکم دیا کہ وہ آواز دیں اے انصار! تمہیں خدا کا رسول بلاتا ہے۔آپ نے آواز دی اور انصار منٹوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے۔ایک کی انصاری کہتے ہیں کہ ہمارے اونٹ اتنے ڈر گئے تھے کہ باوجود نکیلیں کھینچنے کے وہ پیچھے نہیں مڑتے تھے۔جو اونٹ مڑ گئے سو مر گئے باقی کی گردنوں کو ہم نے خود اپنی تلواروں سے کاٹ دیا اور پیدل چل کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے۔ان کی جوش کی حالت تھی جب اسلامی لشکر کو فتح ہوئی