خطبات محمود (جلد 29) — Page 271
$1948 271 خطبات محمود خواب کا نظارہ بہت بڑا تھا لیکن تعبیر بہت چھوٹی تھی۔اسی طرح ظاہری اعمال کا بھی حال ہوتا ہے۔بعض دفعہ ایک چھوٹا سا بیج بویا جاتا ہے لیکن بعد میں وہ نشو ونما پاتے پاتے اتنا ترقی کر جاتا ہے کہ دنیا حیران ہو جاتی ہے اور بعض دفعہ ایک چیز ابتدا میں نہایت اہم نظر آتی ہے لیکن اس کا انجام اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ انسان حیران ہو جاتا ہے کہ ایک چھوٹی سی بات کو اتنی اہمیت اور عظمت کیوں دی گئی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو جہل قریباً ہم عمر تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ایسی حالت میں ہوئی کہ آپ کے والد آپ کی پیدائش سے پہلے ہی فوت ہو چکے تھے۔اگر وہ زندہ بھی ہوتے تو پھر بھی وہ کوئی مالدار آدمی نہیں تھے۔آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب امیر لوگوں میں سے نہیں تھے۔آپ آسودہ حال تو ضرور تھے چنانچہ آپ کا دو اڑھائی سو اونٹ ثابت ہوتا ہے لیکن چونکہ آپ ایک بنی آدمی تھے اس لیے آخری عمر میں آپ کی دولت بہت کم ہو گئی تھی۔پس اول تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان ہی کوئی امیر خاندان نہیں تھا۔دوسرے آپ خصوصیت سے غریبانہ حالت میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد آپ کی پیدائش سے پہلے ہی فوت ہو چکے تھے۔آپ کی پیدائش پر آپ کی والدہ نے کیا خوشی کی ہوگی۔آپ کی والدہ کے پاس کچھ تھا ہی نہیں۔لوگ تو دنیا کو دیکھتے ہیں، مال اور دولت کو دیکھتے ہیں۔جہاں روپیہ ہوتا ہے وہاں لوگ جمع ہو جاتے ہیں اور جہاں روپیہ نہیں ہوتا وہاں سے وہ بھاگ جاتے ہیں۔آپ کی والدہ کے پاس روپیہ نہیں تھا۔شاید آپ کے قریبی رشتہ دار مبارکباد کے لیے آگئے ہوں مگر دوسرے لوگوں نے آپ کی پیدائش کو کوئی اہمیت نہیں دی۔لیکن ابو جہل کا باپ مالدار تھا۔جب وہ پیدا ہوا ہو گا اس کے ماں باپ نے کتنی خوشیاں منائی ہوں گی۔ابو جہل کا نام ابوالحکم تھا یعنی حکمتوں کا باپ عنظمند، دانا اور مدبر۔لیکن بعد میں اُس نے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید مخالفت کی اور حماقت کا اظہار کیا تو مسلمانوں نے اُس کا نام ابو جہل رکھ دیا۔ابو جہل کے ماں باپ چونکہ مالدار تھے اس لیے جب وہ پیدا ہوا ہوگا تو ہر وہ شخص جس کی ضروریات ان سے وابستہ ہوں گی ان کے گھر پہنچا ہوگا اور اس کی پیدائش پر مبارک باد دی ہوگی اور کہا ہوگا ہمارا ملک کتنا ہی خوش قسمت ہے جس میں اس جیسا بچہ پیدا ہوا۔اس کے چہرہ سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اقبال کا ستارہ کتنا بلند ہے۔غرض اس کی تعریف میں لوگوں نے ہزاروں ہزار مبالغے کیے ہوں گے۔معلوم نہیں اس کی پیدائش پر کتنے اونٹ ذبح کر کے دعوتیں کی گئی ہوں گی، خوشی میں دفیں بجائی گئی ہوں گی ، عورتوں نے