خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 262

$1948 262 خطبات محمود دیتے ہیں۔وہ کسی نہ کسی طرح جان بچا کر آیا تھا، صحابہ اس کی مدد کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے لیکن وہ رئیس جو معاہدہ کر رہا تھا اُس نے کہا معاہدہ میں یہ شرط ہے کہ مکہ میں سے جو مسلمان ہو کر آپ کے پاس جائے گا اُسے واپس کیا جائے گا۔اگر چہ معاہدے پر ابھی دستخط نہیں ہوئے مگر فریقین کے درمیان طے تو ہو چکا ہے اس لیے یہ آدمی آپ کو واپس کرنا پڑے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ہم معاہدہ کر چکے ہیں اور اس کے مطابق یہ واپس کیا جائے گا۔آپ نے صحابہ سے فرمایا اسے واپس کر دو۔اور آپ کے حکم کے مطابق وہ واپس کر دیا گیا۔مسلمانوں میں ایک جوش پیدا ہو گیا مگر آپ نے فرمایا ہم معاہدہ کر چکے ہیں ہمیں ایسا کرنا ہی پڑے گا۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ واپس پہنچ گئے تو ایک مسلمان آپ کے پاس آیا اور اُس نے عرض کیا یا رسول اللہ میں مسلمان ہوں۔کفار مجھے اس اس قسم کی ایذائیں دیتے تھے۔میں بھاگ کر آیا ہوں۔اس کے پیچھے پیچھے دوسرے لوگ بھی آگئے اور انہوں نے کہا معاہدہ کے مطابق یہ شخص مدینہ میں نہیں رہ سکتا اسے واپس کریں۔ہمارا یہ معاہدہ تھا کہ ہم میں سے جو بھی مسلمان ہو کر آپ کے پاس آئے اسے واپس کر دیا جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں یہ ٹھیک ہے اور اس شخص کو واپس کر دیا۔راستہ سے بھاگ کر وہ پھر آگیا۔پھر اس کے متعاقب حاضر ہوئے اور اس کا مطالبہ کیا۔اس نے کہا کہ آپ تو حوالہ کر چکے ہیں۔اب تو میں ان سے بھاگ کر آیا ہوں۔آپ نے فرمایا نہیں تمہیں معاہدہ کی پابندی کرنی ہوگی اس لیے تمہیں واپس جانا ہی پڑے گا۔وہ مدینہ سے واپس لوٹا تو پھر ان سے چھپ کر ایک جگہ پر جو شام کے قافلوں کے راستہ پر تھی جگہ بنالی اور جو قافلہ اُس رستہ سے گزرتا تھا وہ اُس پر حملہ کرتا تھا اور جتنا نقصان اسے پہنچا سکتا تھا پہنچاتا تھا۔جب مکہ کے دوسرے مسلمانوں کو اس کی خبر ملی تو وہ بھی اس کے اردگر د جمع ہو گئے۔تھوڑے دنوں میں مکہ کی تجارت بالکل تباہ ہو گئی۔وہ چند آدمی تھے مگر مِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کے ماتحت انہوں نے اپنی جانوں کی پروا نہیں کی۔اور یہ نہیں کیا کہ حبشہ کی طرف بھاگ جائیں وہاں انہیں پنا مل سکتی تھی۔انہوں نے یہ نہیں کیا کہ ایران بھاگ جائیں وہاں انہیں پناہ مل سکتی تھی۔انہوں نے یہ نہیں کیا کہ روم بھاگ جائیں وہاں وہ امن و پاسکتے تھے اور ملازمتیں وغیرہ کر سکتے تھے۔بلکہ انہوں نے اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر اس پہاڑی پر ڈیرا لگا لیا۔کفار کے قافلوں پر حملے کیے اور ان کی طاقت کو کمزور کیا اور فتح مکہ کی بنیاد رکھ دی۔تو دیکھو