خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 261

$1948 261 خطبات محمود میں ہوتا اور اس کے محکمہ میں کوئی معاملہ جاتا تو انسپکٹر سے لے کر حکومت ہند کے سیکرٹریوں اور وزیروں تک اس کی مدد کرتے۔صرف اس لیے کہ وہ ہندو ہے وہ صرف یہ دیکھتے تھے کہ اس کا نام رلیا رام لکھا ہے اور سمجھ لیتے کہ اس کے مدمقابل عبد الرحمان نے ضرور غلطی کی ہے۔مگر اس مقابلہ میں مسلمان ڈرتے تھے اور وہ خیال کر لیتے تھے کہ عبدالرحمان نے ضرور غلطی کی ہے اسے ضرور سزاملنی چاہیے ورنہ ہندو کہیں گے کہ یہ متعصب ہے۔ہندوؤں کے مد نظر اپنی قوم کی ترقی تھی اس لیے وہ ہر رستہ سے طاقت حاصل کر لیتے تھے اور اس لیے بڑھتے جارہے تھے۔مسلمانوں کے مد نظر اُن کا ذاتی مفاد تھا قوم کی ترقی نہیں تھی اس لیے وہ پراگندہ ہو گئے۔خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ قوم کو پراگندہ ہر گز نہیں ہونا چاہیے بلکہ فرماتا ہے کہ اے مسلمانو! تم جس طرف بھی نکلو تمہارا یہ مقصد ہونا چاہیے کہ ہم نے خدا تعالیٰ کے دین کو کامیاب کرنا ہے۔جب تک تم اس رنگ میں کام نہیں کرو گے تمہیں کامیابی کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔صحابہ میں یہ چیز پیدا ہوگئی تھی۔اس لیے وہ ہر رنگ میں اس کے لیے کوشش کرتے تھے اور آخر انہیں کامیابی ہو جاتی تھی۔فتح مکہ کی جن لوگوں نے بنیاد رکھی وہ چند صحابی تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ پر تشریف لے گئے۔آپ نے مشرکین مکہ سے معاہدہ کیا۔آپ یہی خدائی منشان سمجھتے تھے کہ حملہ کر کے مکہ میں داخل نہ ہوں۔اس لیے آپ نے مشرکین مکہ سے معاہدہ کر لیا اور اس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ مکہ سے جو شخص مسلمان ہو کر مدینہ چلا جائے اسے مسلمان واپس کر دیں مگر جو مسلمان مرتد ہو کر مکہ آجائے اُسے واپس نہیں کیا جائے گا۔صحابہ پر یہ بہت گراں گزرا اور انہوں نے سمجھا کہ یہ تو بڑی بھاری شکست ہوگی۔کفار میں سے جو مسلمان ہو کر آئیں گے اسے تو ہمیں واپس کرنا ہو گا لیکن ہم میں سے جو مرتد ہو کر مکہ چلا جائے گا اُسے مشرکین مکہ واپس نہیں کریں گے۔بعض صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت بھی کی۔آپ نے انہیں یہ جواب دیا کہ ہمارا آدمی جہاں کہیں بھی ہو گا اسلام کی خدمت کرے گا لیکن ہم میں سے جو مرتد ہو جائے گا اور مشرکین کے پاس چلا جائے گا وہ ہمارے کس کام کا؟ ہم نے اسے کیا کرنا ہے؟ معاہدے پر ابھی دستخط نہیں ہوئے تھے کہ وہ رئیس مکہ جو معاہدہ کر رہا تھا اُسی کا بیٹا جسے رسیاں بندھی ہوئی تھیں بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں کسی نہ کسی طرح لڑھکتا لڑھکتا وہاں پہنچا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں مسلمان ہوں اور مسلمان ہونے کی وجہ سے میرا حال ہے۔ان لوگوں نے مجھے قید کر رکھا ہے اور مجھے باہر نہیں نکلنے دیتے اور طرح طرح کی ایذائیں اور دکھ