خطبات محمود (جلد 29) — Page 248
$1948 248 خطبات محمود وہ بھی آخر حضرت عمر کی ہی بہن تھی۔انہوں نے کہا تم نا پاک ہو اور مشرک ہو ہم تمہیں قرآن کریم کو ہاتھ نہیں لگانے دیں گے۔اگر قرآن کریم سننا ہے تو پہلے نہا کر آؤ۔حضرت عمر جیسا بہادر آدمی بھیگی بلی کی طرح نہانے کے لیے چلا گیا۔تھوڑی دیر کے بعد آپ نہا کر واپس آئے اور فرمایا بہن ! میں اب نہا آیا ہوں۔اب مجھے قرآن سناؤ۔بہن نے قرآن کریم کا ورق آپ کے ہاتھ میں دے دیا۔یہی عمر تھا جس نے سارا قرآن کریم سنا تھا مگر پھر بھی مخالفت پر ہی کمر بستہ رہا۔مگر اب ظلم کی وجہ سے اُس کے دل میں نرمی پیدا ہو چکی تھی اور خدا کا خوف پیدا ہو گیا تھا اور دل کی کھڑکیاں جو پہلے بند تھیں اب کھل چکی تھیں۔آپ نے ابھی تین چار آیات ہی پڑھی تھیں کہ کھڑے ہو گئے اور کہا بہن ! مجھے بتاؤ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں رہتے ہیں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن دنوں خطرے کی وجہ سے ایک مکان میں نہیں ٹھہرتے تھے بلکہ کبھی کسی گھر میں ہوتے تھے اور کبھی کسی گھر میں۔آپ کی بہن نے آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پتہ بتادیا اور آپ فوراً اُس طرف چل دیئے۔مگر بعد میں خیال آیا کہ کہیں بھائی کی نیت خراب نہ ہو اس لیے انہوں نے آگے بڑھ کر آپ کی گردن پکڑ لی اور کہا خدا کی قسم ! میں تمہیں اُس وقت تک نہیں جانے دوں گی جب تک تم یہ اقرار نہیں کرو گے کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی نہیں کرو گے۔حضرت عمرؓ نے کہا میں اقرار کرتا ہوں کہ میں آپ کی بے ادبی نہیں کروں گا۔پھر انہوں نے آپ کو چھوڑ دیا اور آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل دیئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن دنوں دار ارقم میں مقیم تھے۔دروازہ بند تھا اور آپ قرآن کریم کا درس دے رہے تھے۔حضرت عمرؓ نے دروازہ کھٹکھٹایا۔صحابہ نے پوچھا کون ہے؟ آپ نے جواب دیا عمر بن خطاب۔صحابہ نے کہا کہ یہ تو بڑا ظالم آدمی ہے۔اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لیے انعام مقرر کیا ہوا ہے کہیں یہ شرارت نہ کرنے آیا ہو اس لیے دروازہ نہیں کھولنا چاہیے۔حضرت حمزہ کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے لڑنا صرف عمر کو ہی نہیں آتا ہمیں بھی آتا ہے۔دروازہ کھول دو۔میں دیکھوں گا کہ وہ کیا کرسکتا ہے۔اگر نیک نیتی کے ساتھ آیا ہے تب تو خیر ورنہ اُسی کی تلوار سے میں اُس کی گردن کاٹ دوں گا۔صحابہ نے دروازہ کھولا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا عمر ! تم شرارتوں سے باز بھی آؤ گے یا نہیں ؟ مگر عمر اب وہ عمر نہیں تھے جو پہلے تھے۔آپ نے گردن جھکا لی اور فرمایا یا رسول اللہ ! میں تو اسلام قبول کرنے کے لیے آیا ہوں۔حضرت عمرؓ جنہوں