خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 230

$1948 230 خطبات محمود سکتے۔تو یہ سیدھی بات ہے کہ جب ایک کام کو آسانی کے ساتھ ایک آدمی کر سکتا ہو اور پھر اس میں سارے لگے ہوئے ہوں تو دیکھنے والا یقینا انہیں پاگل کہے گا۔ہاں اتفاقی طور پر ایسا ہوتو اور بات ہے۔بعض دفعہ ماں بچے کی گاڑی کو دھکیلتی ہے تو باپ بھی اس کے اوپر ہاتھ رکھ دیتا ہے تو یہ ایک اتفاقی چیز ہے لیکن اگر ایک کام کو تھوڑے آدمی آسانی کے ساتھ چلا رہے ہوں اور اس میں سب لگ جائیں اور یہ اتفاقی امر بھی نہ ہو تو یہ جنون کی علامت ہوتی ہے۔اسی طرح یہ بھی جنون کی علامت ہے کہ بڑے کام میں جس میں زیادہ آدمیوں کی ضرورت ہو تھوڑے آدمی لگے ہوئے ہوں۔یا زیادہ وقت کی ضرورت ہو اور وہ اسے تھوڑے وقت میں ختم کرنے کی کوشش کریں۔دنیا میں اسلام قریباً مٹ چکا ہے صرف نام باقی ہے۔حقیقت مفقود ہو چکی ہے۔اس پر عمل کرنے والے بہت کم رہ گئے ہیں۔خدا تعالیٰ کی صفات پر صحیح صحیح عمل کرنے اور ان کے مطابق کام کرنے کی روح بہت کم ہوگئی ہے۔یہ کہ اسلام کی اطاعت کر کے کوئی اس قابل ہو جائے کہ اس کو دنیا میں قائم کر سکے، یہ جذبہ بہت ہی کم پایا جاتا ہے۔ساری دنیا جو اسلام کی دشمن بن گئی ہے اُس کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں داخل کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں کی جاتی۔خدا تعالیٰ نے یہ کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سپرد کیا ہے۔اور ہم لوگ جو احمدی کہلاتے ہیں یہ اقرار کر کے احمدیت میں داخل ہوتے ہیں کہ ہم یہ کام کریں گے۔لیکن کتنے ہیں جو اپنے اوقات کو اس طرز پر لگاتے ہیں کہ دن میں سے اکثر حصہ خدمت دین کے لیے نکل آئے۔اکثر کو بھی جانے دو وہ لوگ کتنے ہیں جو دن میں اڑھائی گھنٹے ہی دین پر لگاتے ہوں۔اگر سب لوگ اڑھائی گھنٹے روزانہ ہی اس کام پر لگاتے تو اس وقت تک جماعت بہت ترقی کر جاتی مگر افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے افراد اتنی قربانی بھی نہیں کر رہے۔پس دوستوں کو چاہیے کہ وہ اس کام کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ وقت خدمت دین کے لیے دیں اور احمدیت کو پھیلانے کی کوشش کریں۔اگر ہماری جماعت پہلے یہ کام کرتی تو اب تک جماعت کافی ترقی کر چکی ہوتی۔اسلام اس وقت ایسی خطر ناک حالت سے گزر رہا ہے کہ گویا اسلام کے لیے اب کوئی ٹھکانا نہیں رہا۔اب ہمارے سوا اور کوئی نہیں جو دشمن کی تلواروں کو اپنے سینوں پر برداشت کرے۔پس ہمارا فرض ہے کہ قطع نظر اس کے کہ ہمیں کوئی برا نی