خطبات محمود (جلد 29) — Page 229
$1948 229 خطبات محمود یہ ہے کہ دنیا کو خدا نے پیدا کیا ہے۔تو کیا دنیا کا پیدا کرنا اور چلانا ایک کے ہی سپرد ہے یا اس کے الگ ا الگ حصے مینوں کے سپرد ہیں یا تینوں ہی یہ کام کر سکتے ہیں؟ دنیا میں جس قدر قوانین قدرت چل رہے ہیں اور جو تغیر و تبدل ہو رہا ہے کیا کچھ طاقتیں خدا کے سپرد ہیں اور کچھ طاقتیں روح القدس کے سپرد ہیں اور کچھ طاقتیں مسیح کے سپرد ہیں یا ساری طاقتیں خدا ہی کو حاصل ہیں یا پھر یہ ساری طاقتیں ساروں کو ہی حاصل ہیں؟ یعنی خدا اکیلا بھی دنیا کو چلا سکتا ہے اور روح القدس بھی اکیلا دنیا کو چلا سکتا ہے۔اور مسیح خدا کا بیٹا بھی اکیلا دنیا کو چلا سکتا ہے۔آپ کے نزدیک ان میں سے کیا صورت ہے؟ پادری صاحب نے جواب دیا کہ یہ طاقتیں ساروں کو حاصل ہیں۔میں نے کہا اچھا میں مان لیتا ہوں یہ طاقتیں ساروں کو حاصل ہیں لیکن ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ جب باپ بوڑھا ہو جاتا ہے تو اس کے جوان بیٹے اسے کہتے ہیں تم گھر بیٹھو کام ہم کریں گے۔تو کیا اس طرح خدا کے بیٹے اور روح القدس نے بھی خدا کو کرسی پر بٹھا رکھا ہے اور آپ کام کر رہے ہیں یا خدا سارے کام خود کر رہا ہے یا سب مل کر کر رہے ہیں؟ اگر یہ مان لیا جائے کہ سارے مل کر کام کرتے ہیں جیسا کہ آپ نے تسلیم کیا ہے تو یہ نظر آتا ہے کہ خدا کو بھی طاقت حاصل ہے کہ وہ دنیا کو چلا سکے، روح القدس کو بھی طاقت حاصل ہے کہ وہ دنیا کو چلا سکے اور مسیح خدا کے بیٹے کو بھی یہ طاقت حاصل ہے کہ وہ دنیا کو چلا سکے۔یعنی وہ الگ الگ بھی کام کر سکتے ہیں اور اکٹھے مل کر بھی کر سکتے ہیں۔اب دیکھیے میز پر ایک پنسل پڑی ہے اور آپ اسے اٹھا کر اپنے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔میں یہاں بیٹھا ہوا ہوں۔آپ مجھے کہیں کہ یہ پنسل اٹھا کر میرے سامنے رکھ دو۔پھر آپ اپنے بیرہ کو بھی بلا لیں ، باور چی کو بھی بلا لیں اور اپنے دوسرے خدام کو بھی بلا لیں اور وہ سب دوڑتے ہوئے آئیں۔جب وہ آجائیں تو ہم سب کو آپ کہیں کہ یہ پنسل اٹھا کر میرے سامنے رکھ دو تو دیکھنے والا آپ کے متعلق کیا رائے قائم کرے گا؟ پادری صاحب نے کہا یہی کہ میں پاگل ہوں۔میں نے کہا اچھا آپ کو دیکھنے والے آپ کو اس لیے پاگل کہیں گے کہ آپ میں پنسل اٹھانے کی طاقت تھی پھر آپ نے دوسروں کو کیوں بلایا۔اب آپ فرمائیے کہ جب خدا تعالیٰ میں یہ طاقت تھی کہ وہ دنیا کو چلا سکے مسیح خدا کے بیٹے میں یہ طاقت تھی کہ وہ دنیا کو چلا سکے، روح القدس کو یہ طاقت حاصل تھی کہ وہ دنیا کو چلا سکے تو پھر اس کام میں تینوں کیوں لگے ہوئے ہیں؟ آپ کو اگر پنسل اٹھانے پر پاگل کہا جائے گا تو پھر وہ بھی پاگل ہیں۔اس پادری نے کہا کہ یہ سب خدائی باتیں ہیں۔ان کو ہم نہیں سمجھ