خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 225

$1948 225 خطبات محمود توفیق دے۔رمضان کے بعد کچھ ایسے لوگ ہوں گے جن سے اگر کچھ روزے رہ گئے ہوں تو وہ انہیں پورا کریں گے اور کچھ ایسے ہوں گے جنہیں رمضان کے پورے روزے رکھنے کی توفیق ملی ہے اور وہ نفلی روزے رکھیں گے جو حدیثوں سے ثابت ہیں۔اور کچھ ایسے بھی بد قسمت ہوں گے جنہیں رمضان کے پورے روزے رکھنے کی توفیق نہیں ملی اور وہ انہیں پورا کرنے کی بھی کوشش نہیں کریں گے لیکن یہ وہی لوگ ہوں گے جو رمضان کی عظمت پر یقین نہیں رکھتے اور جو اسلام کی عظمت پر یقین نہیں رکھتے۔میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں بھی ایک ایسا طبقہ ہے جن میں رمضان کی زیادہ قدر نہیں۔اگر وہ ایسی جگہ ہوں جہاں روزے رکھے جاتے ہیں تو وہ بھی شرم کے مارے روزے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن اگر کچھ روزے رہ جائیں تو ان کو پورا کرنے کی طرف توجہ نہیں کرتے۔بعض یسے نوجوان بھی ہیں جو بہانہ کر دیتے ہیں کہ روزہ رکھنے سے انہیں پچپش لگ جاتی ہے۔بیماری کے نتیجے میں اگر کوئی روزہ نہ رکھ سکے تو قرآن کریم نے یہ حکم دیا ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے لیکن اُس وقت جب اس کا نفس بھی سمجھتا ہو کہ وہ بیمار ہے اور پھر اس کا فرض ہے کہ یہ روزے رمضان کے بعد رکھے۔محض اس خیال سے کہ اسے پیچیش لگ جائے گی اس لیے وہ روزے نہیں رکھتا جائز نہیں بلکہ گناہ ہے اور محض نفس کا بہانہ ہے۔پھر بعض بیماریاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں انسان سارے کام کر لیتا ہے۔مثلاً پرانی بیماریاں ہیں ان میں انسان سب کام کرتا رہتا ہے۔ایسا بیمار بیمار نہیں سمجھا جاتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک دفعہ یہ فتویٰ پوچھا گیا کہ کیا اس ملازم کا سفر شمار کیا جائے گا جو ملا زم ہونے کی وجہ سے سفر کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا اس کا سفر سفر نہیں گنا جا سکتا۔اس کا سفر تو اس کی ملازمت کا ایک حصہ ہے۔اسی طرح بعض ایسی بیماریاں ہوتی ہیں جن میں انسان سارے کام کرتا رہتا ہے۔فوجیوں میں بھی ایسے ہوتے ہیں جو ان بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں مگر وہ سارے کام کرتے رہتے ہیں۔چند دن پیچش ہو جاتی ہے لیکن اس وجہ سے وہ ہمیشہ کے لیے کام کرنا چھوڑ نہیں دیتے۔پس اگر دوسرے کاموں کے لیے وقت نکل آتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ایسا مریض روزے نہ رکھ سکے۔اس قسم کے بہانے محض اس وجہ سے ہوتے ہیں کہ ایسے لوگ دراصل روزہ رکھنے کے ہی خلاف ہوتے ہیں۔بے شک یہ قرآنی حکم ہے کہ سفر کی حالت میں اور اسی طرح بیماری کی حالت میں روزے نہیں رکھنے چاہیں اور ہم اس پر زور دیتے ہیں تا قرآنی حکم کی ہتک نہ ہو۔مگر اس بہانہ سے فائدہ اٹھا کر جو لوگ