خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 219

$1948 219 خطبات محمود دیکھو بھئی یہ باتیں میری سمجھ میں نہیں آئیں اور اس طرح آپ کو دوبارہ سمجھانے کا موقع مل جائے گا۔بغیر اس کے کام نہیں چلے گا۔محض باتیں سننے سے کسی کے چہرے پر بشاشت کا ظاہر ہو جانا اس بات کی علامت نہیں کہ وہ احمدی ہو گیا ہے یا یہ کہ وہ احمدیت کے قریب ہے اور جلد بیعت کرلے گا۔اگر کسی نے آپ کے گھر آکر کھانا کھا لیا اور اس نے خوش ہو کر کہ دیا کہ آپ کی جماعت بڑی اچھی ہے، آپ لوگ لیغ کرتے ہیں، قربانی اور ایثار کا جذبہ آپ لوگوں میں پایا جاتا ہے اس سے آپ یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ احمدیت کے قریب ہے اور وہ جلدی بیعت کر لے گا۔اگر آپ ایسا سمجھ لیتے ہیں تو یہ آپ کا غلط اندازہ ہے۔پچھلے دنوں جب ہم قادیان میں دشمن کے مقابلہ میں ڈٹے ہوئے تھے اُس وقت ہر طرف یہ شور تھا کہ جماعت احمدیہ قربانی کا بہت اچھا نمونہ پیش کر رہی ہے۔یہ اس وجہ سے نہیں تھا کہ دوسرے مسلمانوں پر احمدیت کا اثر تھا یا انہوں نے احمدیت کو سچا جان لیا تھا بلکہ اُس وقت ان کے سامنے اپنی غیرت اور عزت کا سوال تھا۔وہ دنیا کو بتانا چاہتے تھے کہ دیکھو مسلمانوں کا ایک حصہ تو اپنی جگہ پر ڈٹا ہوا ہے۔وہ چاہتے تھے کہ وہ اس طرح اس نیک نامی اور شہرت میں ہمارے ساتھ شریک ہو جائیں اور اس کام میں ہمارے ساتھ برابر کے حصہ دار ہو جائیں جو ان کے اپنے مطلب کی بات تھی جس کی وجہ سے وہ ہمارے اس کام پر خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔جب کام نکل گیا تو اب انہی لوگوں میں سے بہت سے مخالفت پر اتر آئے ہیں۔لیکن کامل دوست تو وہ ہے جو اچھے اور بُرے، آرام اور تکلیف ،سکھ اور دکھ سب میں شریک ہو اور یہ اس طرح ہی ہو سکتا ہے کہ وہ جماعت میں داخل ہو جائے۔آپ کو ایسے افراد سے تصفیہ کر لینا چاہیے۔یونہی لڑکائے نہیں جانا چاہیے۔تبلیغ کرو اور دیکھو تمہاری تبلیغ کا ان پر کیا اثر ہے۔اگر آپ کی باتوں کا ان پر اثر ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ آپ ٹھیک راستہ پر جارہے ہیں تو پھر ان سے کہہ دو کہ اگر تمہارے نزدیک میری باتیں صحیح ہیں اور تم سمجھتے ہو کہ میں ٹھیک راستہ پر جا رہا ہوں تو پھر تمہیں ماننے میں کیا انکار ہے۔میں نے جو درست سمجھا تھا وہ تمہیں بھی سمجھا دیا ہے۔اب اگر تم کو کوئی اعتراض ہے تو وہ پیش کرو ورنہ تم مجھے سمجھاؤ اور اس راستہ پر مجھے بھی لگا لو جس کو تم صحیح خیال کرتے ہو۔اس طرح اگر تمہارا دوست تمہاری باتوں کو ہی درست سمجھتا ہے تو وہ تمہارے ساتھ آجائے گا اور اگر اسے ابھی کچھ اعتراضات ہیں تو پھر تمہیں ان کے جوابات دینے کا موقع مل جائے گا۔جب تمہاری تبلیغ سے اس کی تسلی ہو جائے اور تم اس پر حجت تمام کر لو تو ا سے کہو کہ مرد بنو بزدل نہ بنو۔آؤ ان اکھلیوں میں تم بھی سردو