خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 12

$1948 12 خطبات محمود کامیاب ہو جائیں گے وہم اور عبث خیال ہے کیونکہ وہ عظیم الشان کام جو ہمارے سپرد ہے بہت بڑا ہے۔لوگ تو چھوٹی چھوٹی چیزیں پا کر ہی خوش ہو جایا کرتے ہیں۔کوئی اچھی تجارت کر کے خوش ہو جاتا ہے ہے، کوئی اچھی نوکری مل جانے پر خوشیاں مناتا ہے مگر مومن سوائے خدا تعالیٰ کی ذات کے مل جانے کے اور کسی چیز میں تسلی نہیں پاتا۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ چھوٹے بچے بعض اوقات آسمان کی چیزیں مانگتے ہیں۔خود میرے متعلق ہی حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی ایک روایت ہے کہ میں جب چھوٹا سا تھا تو ایک دفعہ کسی بات پر چڑ گیا۔یہ دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے اٹھا لیا اور بہلانے لگے۔میں جب ذرا چُپ ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس خیال سے کہ اب یہ بالکل پچپ ہو جائے گا آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مجھے کہا محمود اوہ دیکھو چاند۔میں نے چاند کو دیکھ کر شور مچانا شروع کر دیا کہ میں نے چاند لینا ہے۔4 بچوں کی اس قسم کی چڑ سے پتہ لگتا ہے کہ وہ بعض اوقات ایسی چیزیں مانگ بیٹھتے ہیں جن کا میسر آنا ناممکن ہوتا ہے۔مگر ایک مومن کی بھی یہی حالت ہوتی ہے۔وہ کہتا ہے میں نے خدا لینا ہے۔پس جب تک تم یہ خدا لینے والا جذ بہ اپنے اندر پیدا نہیں کر لیتے تب تک تمہارے ایمان کامل نہیں ہو سکتے اور تمہارے کوئی کام کر دکھانے کے دعوے عبث اور فضول ہیں۔یاد رکھو! جب مومن کو اُس کا محبوب مل جاتا ہے تو ساری دنیا اُس کے تابع ہو جاتی ہے اور ساری دنیا اُس کے پیچھے پیچھے کیچی چلی آتی ہے۔جس کام کو تم نے اختیار کیا ہے وہ تمہاری کوششوں اور تمہاری عقلوں اور تمہاری تدبیروں سے نہیں ہو سکتا۔وہ صرف اسی طرح ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ خود آسمان سے اُترے اور تمہاری مدد کرے۔مگر اُس کے آسمان سے اترنے کا ذریعہ صرف یہی ہے کہ نمازیں پڑھو اور دعائیں کرو اور رات کی تاریکیوں میں چلا ؤ اور اُس کے حضور اتنا گڑ گڑاؤ کہ اُس کی محبت جوش میں آجائے اور وہ آسمان سے اتر کر تمہیں تسلی دے کہ جب میں تمہارے ساتھ ہوں تو تمہیں کس بات کا غم ہے۔دو تین دن کی بات ہے کہ مجھے الہام ہوا جس کی عبارت کچھ اس قسم کی تھی إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ اللهُ الَّذِين۔اس سے آگے کی عبارت یاد نہیں رہی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اُنہی کی دعائیں قبول کرتا ہے جو۔۔۔میں سمجھتا ہوں کہ اس سے آگے کی عبارت وہی ہے جو آج میں نے اپنے خطبہ میں