خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 11

$1948 11 خطبات محمود کے حضور یہ ظاہر کرتا ہے کہ میں نے فرائض کو تو ادا کر دیا ہے مگر ان فرائض سے میری تسلی نہیں ہوئی اور وہ ہے کہتا ہے کہ اے خدا! میں چاہتا ہوں کہ میں ان فرائض کے اوقات کے علاوہ بھی تیرے دربار میں حاضر ہوا کروں۔جیسے کئی لوگ جب کسی اعلیٰ افسر یا بزرگ کی ملاقات کو جاتے ہیں تو وہ مقررہ وقت گزر جانے پر کہتے ہیں دومنٹ اور دیجیے۔اور وہ ان مزید دو منٹوں میں لذت محسوس کرتے ہیں اور وہ ان دو منٹوں کو چٹی نہیں سمجھتے بلکہ اُن سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔اسی طرح ایک مومن جب فرائض کی ادائیگی کے بعد نوافل پڑھتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ سے کہتا ہے کہ اب میں اپنی طرف سے کچھ مزید وقت حاضر ہونا چاہتا ہوں۔ساتواں درجہ ایمان کا یہ ہے کہ انسان نہ صرف پانچوں نمازیں اور نوافل ادا کرے بلکہ رات کو بھی تہجد کی نماز پڑھے۔یہ وہ سات درجات ہیں جن سے نماز مکمل ہوتی ہے اور ان درجات کو حاصل کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ خدا تعالیٰ رات کے وقت عرش سے اُترتا ہے اور اس کے فرشتے پکارتے ہیں اے بندو! خدا تعالی تمہیں ملنے کے لیے آیا ہے۔اٹھو! اور اُس سے مل لو۔پس ان سات درجوں کو پورا کرنا ہم میں سے ہر ایک احمدی کا فرض ہے۔ہماری جماعت چونکہ ایک مامور کی جماعت ہے اس لیے ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ نماز کا پابند ہو۔ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ نمازوں کو وقت پر ادا کیا کرے۔یا ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ نماز باجماعت ادا کیا کرے، ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ نماز کوسوچ سمجھ کر اور ترجمہ سیکھ کر ادا کرے، ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ علاوہ فرض نمازوں کے رات اور دن کے نوافل بھی پڑھا کرے اور ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ نماز کے اندر محویت پیدا کرے اور اتنی محویت پیدا کرے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے مطابق یا تو وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہو یا وہ اپنے دل میں یہ یقین رکھتا ہو کہ خدا تعالیٰ اسے ضرور دیکھ رہا ہے۔پھر ہم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ فرائض اور نوافل دن کو اور رات کو اس التزام اور باقاعدگی سے ادا کرے کہ اُس کی راتیں دن بن جائیں۔اسی طرح تہجد کی مناجات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے۔جب تک ہم وہ طریق استعمال نہیں کریں گے جن سے ہم خدا تعالیٰ کی محبت کو جذب کر سکیں اُس وقت تک یہ امید کرنا کہ ہم دنیا میں