خطبات محمود (جلد 29) — Page 188
$1948 188 خطبات محمود کوئی ایسی چیز نہیں جس کو دوسرے کی خاطر قربان کیا جاسکے۔ہم سے یہ امید تو کی جاسکتی ہے کہ اگر ہم پیاسے ہوں اور ہمارے پاس تھوڑ اسا پانی ہو اور ہمارے پاس ہی کوئی دوسرا شخص پیاس کی شدت کی وجہ سے تڑپ رہا ہو تو ہم اپنا پانی اُس کو دے دیں خواہ خود موت کا شکار ہو جائیں۔یا ہم بھو کے ہوں اور ہمارے پاس کھانا موجود ہو اور ہمارے پاس کوئی دوسرا شخص بھوک سے بے تاب ہورہا ہو تو شریعت اس کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھے گی کہ ہم خود کھانا نہ کھائیں اور اُس کو کھلا دیں۔لیکن شریعت اس کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھے گی کہ ہم خود نماز نہ پڑھیں اور دوسرے کو موقع دیں کہ وہ نماز پڑھ لے یاخود جہاد میں شامل نہ ہوں اور دوسرے کو موقع دیں کہ وہ جہاد کرے۔یا یہ کہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اظہار ایمان نہیں کرتے اور دوسرے کو موقع دے دیتے ہیں کہ وہ اظہار ایمان کر لے۔یہ دین کا معاملہ ہے جو دنیا کے معاملوں سے مختلف ہے۔دنیوی معاملات میں دوسروں کے لیے قربانی کرنا پسند کیا جاتا ہے۔لیکن دین کے معاملہ میں کسی کے جذبات کی پروا نہیں کی جاسکتی۔اس لیے کہ دنیوی قربانی تو 30،20 یا 50 سال کے لیے ہو گی لیکن دین کی قربانی لاکھوں کروڑوں بلکہ ان گنت سالوں تک جائے گی۔اس لیے کسی سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ خود دائگی دوزخ میں جا پڑے اور دوسرے کے لیے آرام مہیا کرے۔دنیا میں یہ تو ہوسکتا ہے کہ کوئی خود پیاسا مر جائے اور دوسرے کو پانی دے دے، ی یہ تو ہوسکتا ہے کہ خود بھوکا مر جائے اور دوسرے کو کھانا کھلا دے، یہ تو ہوسکتا ہے کہ خود نگا ر ہے اور دوسرے کو لباس دے دے، یہ تو ہو سکتا ہے کہ وہ خود تکلیف برداشت کرے اور دوسرے کو آرام پہنچائے۔لیکن کسی سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ خود بے ایمان ہونے کی حالت میں مر جائے اور دوسرے کو ایماندار بننے کا موقع دے بلکہ مومن سے اس کے خلاف امید کی جائے گی۔پس سب سے مقدم چیز انسان کے لیے اُس کا اپنا ایمان ہے۔اس لیے دنیا کے وقتوں میں سے سب سے زیادہ وقت انسان کو اپنی نماز ، عبادت اور ذکر الہی کے لیے نکالنا چاہیے بشرطیکہ یہ کام ایک حد کے اندر ہو۔نماز فرض ہے اور یہ ایک ایسی چیز ہے جو کسی صورت میں بھی نہیں چھوڑی جاسکتی۔پھر بعض حصے نماز کے ایسے بھی ہیں جنہیں شریعت نے خصوصیت سے پسند کیا ہے جیسے قرآن مجید میں تہجد کا ذکر آتا ہے اور بعض حصے ایسے ہیں جن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تعامل اور سنت نے ثابت کیا ہے جیسے اشراق کی نماز ہے یا ضحی کی نماز ہے۔یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی پابندی انسان کر سکتا ہے