خطبات محمود (جلد 29) — Page 187
$1948 187 خطبات محمود تا دو بجے کے بعد وہ دفاتر میں جاسکیں۔میں نہیں کہہ سکتا کہ مجھے پیغام غلط گیا تھا یا صحیح۔اگر صحیح تھا تو اس کے معنے یہ ہیں کہ یہاں جمعہ کی چھٹی نہیں ہوتی مگر یہ عجیب بات ہے۔لاہور میں جمعہ کے دن ایک بجے کے بعد چھٹی ہو جاتی ہے اور دوسری جگہوں میں بھی جمعہ کے لیے نصف دن کی تعطیل کی جاتی ہے۔پھر یہاں چھٹی کیوں نہیں ہوتی ؟ بہر حال یہ چیز حکومت کے اختیار میں ہے ہمارے اختیار میں نہیں۔دراصل طریق یہ ہوتا ہے کہ ایسے اجتماعی کاموں کے لیے پہلے سے وقت مقرر کر لیا جائے اور امام کو بھی اطلاع دے دی جائے کہ لوگوں کے آنے کا یہ وقت ہو اور جانے کا یہ وقت ہو تا کہ ان دونوں باتوں کی پابندی کی جاسکے اور اس طرح لوگوں کا عہد بھی خراب نہ ہو اور بعض کے لیے دفتری مشکلات بھی پیش نہ پس آئندہ کے لیے ( گوا گلا جمعہ غالباً میں یہاں نہیں پڑھاؤں گا کیونکہ میں کچھ عرصہ کے لیے سندھ جا رہا ہوں) مجھے معلوم ہونا چاہیے کہ کونسا وقت جماعت کی اکثریت کے لیے موزوں ہے؟ کس وقت جمعہ شروع کیا جائے؟ کس وقت تک یہ امید کی جاسکتی ہے کہ سب لوگ جمع ہو جائیں گے اور کونسا وقت جمعہ ختم کرنے کے لیے موزوں ہے؟ جس میں یہ امید کی جا سکے کہ لوگ اپنے اپنے دفاتر میں وقت پر پہنچ سکیں گے۔اس کے بعد میں کوئٹہ کی جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ان کے متعلق جو اثر مجھ پر ہے یا مثال کے طور پر ہمارے اس سفر کے لیے اور پھر یہاں آنے کے موقع پر جس رنگ میں جماعت نے قربانیاں کی ہیں اور دیوار میں وغیرہ اپنے ہاتھوں سے بنائی ہیں اُس سے اتنا تو معلوم ہوتا ہے کہ جماعت میں خدمت کا احساس پیدا ہو چکا ہے لیکن کسی کام کا صرف احساس پیدا ہو جانا کافی نہیں ہوتا ان بلکہ اُس احساس کا صحیح استعمال بھی ضروری ہوتا ہے۔بسا اوقات خدمت کا احساس انسان کو ایسے غلط طریق پر ہوتا ہے کہ اُس کی ساری کوششیں رائیگاں چلی جاتی ہیں اور وہ کسی قسم کا ذاتی یا قومی فائدہ نہیں پہنچا سکتیں۔در حقیقت سب سے زیادہ خدمت کا حق ہم پر اپنے نفس کا ہوتا ہے۔قرآن مجید میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا يَضُرُّكُم مَّنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ 1 یعنی تمہاری اپنی ہدایت باقی لوگوں کی عدم ہدایت سے بہر حال بہتر ہے۔اگر یہ سوال پیدا ہو جائے کہ تم ہدایت پاؤ یا تمہارا غیر ہدایت پائے اور ان دونوں میں ٹکراؤ ہو جائے تو تمہیں اپنی ہدایت کو مقدم رکھنا چاہیے کیونکہ ہدایت