خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 147

$1948 147 خطبات محمود حضرت سعدؓ کی سرین پر ایک پھوڑا نکلا ہوا تھا اور اس وجہ سے وہ لڑائی میں شامل نہیں ہو سکتے تھے۔پہلے دن کی لڑائی میں اسلامی لشکر کے قدم پوری طرح جے نہیں۔وہ قیدی جو بہت بہادر اور جری انسان تھا جب وہ ان باتوں کو سنتا تو اُس سے برداشت نہیں ہوسکتا تھا اور وہ قید خانہ میں ٹہلنے لگ جاتا۔تھوڑی دیر تک اُس نے ٹہل کر وقت گزارا مگر اُس سے پھر بھی برداشت نہ ہوا اور آخر اُس نے دستک دے کر حضرت سعد بن ابی وقاص کی بیوی کو بلوایا۔وہ آئیں تو اُس نے کہا بی بی ! ایک عرب کی زبان جس طرح اپنے وعدہ کو پورا کرتی ہے تم اُس سے خوب واقف ہو کیونکہ تم تو خود عرب ہو۔میں ایک عرب کی حیثیت سے تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر لڑائی میں میں زندہ رہا تو شام کو خود یہاں آ جاؤں گا۔تم مجھے ہتھکڑیاں پہنا دینا لیکن مسلمانوں کی یہ کمزوری مجھ سے دیکھی نہیں جاتی۔میں چاہتا ہوں کہ میں بھی لڑائی میں حصہ لوں۔حضرت سعد کی بیوی ایک دلیر عورت تھیں اُن پر اس دلیری اور قربانی کا اتنا اثر ہوا کہ انہوں نے قانون کو توڑتے ہوئے اُس کی بیٹیاں کاٹ ڈالیں اور کہا میں تم پر اعتبار کرتی ہوں۔اگر زندہ رہے تو واپس آجانا۔وہ گیا اور اُس نے لڑائی میں حصہ لیا اور ایسی بے جگری سے لڑا کہ جہاں جاتا مسلمانوں کے قدم پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاتے۔مگر لڑتے وقت اُس نے اپنے منہ پر نقاب ڈالی ہوئی تھی۔یہ پتہ نہیں لگتا تھا کہ وہ کون ہے۔حضرت سعد سے دیکھتے تو کہتے خدا اس کا بھلا کرے یہ لتا تو فلاں شخص ہے مگر وہ تو قید میں ہے۔اسی طرح اُس نے لڑائی کے ایک یا دو دن گزارے۔آخر حضرت سعد کو پتہ لگ گیا کہ یہ وہی شخص ہے جسے انہوں نے قید کیا ہوا تھا اور یہ کہ ان کی بیوی نے اُسے چھوڑا ہے۔سعدا پنی بیوی پر ناراض ہوئے اور کہا کہ تم نے ایک خلاف قانون فعل کیا ہے جو تمہیں سزا کا مستحق بناتا ہے۔میں نے بتایا ہے کہ حضرت سعد کو پھوڑا نکلا ہوا تھا اور وہ عرشہ پر یا سواری پر بیٹھ کر فوج کی حالت دیکھا کرتے تھے۔خود لڑائی میں شامل نہ ہو سکتے تھے۔جب وہ اپنی بیوی پر خفا ہوئے تو ان کی بیوی نے نہایت غصہ سے جواب دیا کہ تم کو شرم نہیں آتی ! خود سواری یا عرشہ پر بیٹھ کرحکم چلاتے ہو اور تم مجھے یہ کہتے ہو کہ میں اُس شخص کو لڑائی میں حصہ لینے سے محروم کر دیتی جو جری اور دلیر تھا اور تمہاری طرح بیٹھ کر حکم دینے کا عادی نہیں تھا۔سعد نے یہ سنا تو خاموش ہو گئے۔2 کیونکہ گو یہ بات غیر آئینی تھی مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وقت پر جس کام سے تعلق رکھنے والا کوئی آدمی ہوتا ہے اُسے اُس کام سے محروم نہیں رکھا جاتا کیونکہ اُس وقت کا خاص مرد وہی ہوتا ہے۔