خطبات محمود (جلد 29) — Page 146
$1948 146 خطبات محمود کہنا پڑے تو میں کہوں گا یہاں تک کہ تمہارے نفسوں میں اصلاح پیدا ہو جائے۔یوں تو میں سب لوگوں کو یہی کہوں گا مگر میں تمہیں خاص طور پر اس طرف توجہ دلاتا ہوں کیونکہ میں تمہارا ذمہ دار ہوں سب کا نہیں۔یہ میں جانتا ہوں کہ اگر تم اپنی اصلاح کر لو گے تو تم عذاب میں شریک نہیں کیے جاؤ گے۔تمہیں خدا نے دنیا کی اصلاح کے لیے پیدا کیا ہے اور اس وجہ سے وہ اپنا سارا زور اس بات میں صرف کرے گا کہ تمہیں اس عذاب سے بچائے۔جب دنیا میں لوگ غرق ہو رہے ہوں تو اُس وقت تیرا کوں کو نہیں مارا جاتا۔اگر تیراک ماردیے جائیں تو دنیا کو بچایا نہیں جاسکتا۔ہماری تاریخ میں ایک واقعہ آتا ہے کہ حضرت سعد کو ایران کی ایک ایسی جنگ میں شامل ہونا پڑا جس جنگ سے پہلے مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچ چکا تھا۔یہ نقصان ایک غزوہ میں ہوا جسے غزوہ جسر کہتے ہیں۔اس میں ہزاروں ہزار کی تعداد میں مسلمان مارے گئے تھے کیونکہ دشمن نے دریا کے پاران پر حملہ کیا اور ایسی ہوشیاری کی کہ اُس نے پل پر قبضہ کر لیا۔جب مسلمانوں کو دھکیلا گیا تو چونکہ پیچھے زمین نہیں تھی اور پل پر دشمن قابض تھا اُن کے لیے یہی صورت رہ جاتی تھی کہ وہ دریا کے کناروں پر آجاتے۔وہاں دشمن نے اور زیادہ دباؤ ڈالا تو مسلمان پانی میں گر گئے اور چونکہ عرب تیر نا نہیں جانتے تھے سینکڑوں آدمی ڈوب گئے۔اس جنگ کا بدلہ لینے کے لیے حضرت عمرؓ نے سعد بن ابی وقاص کو مقرر کیا اور چونکہ بہت سی اسلامی فوج شام میں بھیجی جا چکی تھی اور چونکہ پچھلی جنگ میں بڑا بھاری نقصان ہوا تھا حضرت عمر کوئی بڑا لشکر نہ بھجوا سکے۔جوشکر دشمن کے مقابلہ میں لڑنے کے لیے بھجوایا گیا اُس کی تعداد ایرانی لشکر کے مقابلہ میں صرف 1/10 تھی۔ایرانی لشکر کی کمانڈ ، رستم کر رہا تھا مگر قصوں والا رستم نہیں۔اگر اُس کا کوئی وجود ہوا ہے تو وہ دو تین سو سال پہلے ہوا تھا۔یہ اور رستم تھا اور یہ بھی اپنی قوم میں بہت دلیر اور جری سمجھا جاتا تھا۔غرض رستم ایرانی لشکر کی کمانڈ کر رہا تھا اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے اسلامی لشکر کی تعداد ایرانی لشکر کے مقابلہ میں صرف 1/10 تھی۔ایرانی لشکر میں ہاتھی بھی تھے جن سے اونٹ بہت ڈرتا ہے اور اسی طرح اور بھی بہت سا سامان جنگ تھا۔اُس وقت عرب کا ایک سردار جو اسلامی تعلیم سے زیادہ واقف نہیں تھا لوگوں کے رغبت دلانے پر شراب پی بیٹھا اور حضرت سعد نے اُس کو قید کر دیا۔جب لڑائی شروع ہوئی تو پاس ہی اُس جگہ جہاں خیمے لگے ہوئے تھے ایک عرشہ بنایا گیا تھا تا اُس پر بیٹھ کرحضرت سعد لڑائی کا نظارہ دیکھ سکیں اور اپنی فوجوں کو مناسب احکام دے سکیں۔اس کی وجہ یہ تھی کہ