خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 6

$1948 6 خطبات محمود لیے صرف ایک ہی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس مقصد کو پورا کرے جس کے لیے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا تھا۔اس لیے جب تک ہمارا یہ مقصد پورا نہیں ہو جاتا اُس وقت تک ہر نیا سال ہمارے لیے دکھ پیدا کرنے کا موجب ہوگا۔لیکن اگر ہم ہر سال اس کام کی کچھ نہ کچھ کوشش کر لیں تو ہر نیا سال ہمارے لیے رحمت اور برکت لانے کا موجب ہوگا۔پس ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم آنے والے سال کے لیے اپنے آپ کو بابرکت بنا ئیں۔مگر یاد رکھنا چاہیے کہ ہر ارادہ کو پورا کرنے کے لیے کوئی کام کرنا پڑتا ہے اور ہر کام کے کرنے کے لیے کوئی تدبیر کرنی پڑتی ہے۔ہمارے اس ارادے اور کام کی تکمیل کے لیے بھی کچھ رستے ہیں اور کچھ تدبیریں ہیں۔جب تک ہم اُن رستوں پر گامزن نہیں ہو جاتے اور جب تک ہم اُن تدابیر پر غور نہیں کرتے ہمیں کامیابی کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ہمارے اس کام سے تعلق رکھنے والی سب سے اہم چیز تعلق باللہ ہے۔اس لیے جب تک ہم اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا نہیں کرتے اور جب تک ہم اُس کے فضلوں کو جذب کرنے کے قابل نہیں بن جاتے اُس وقت تک یہ عظیم الشان کام سرانجام دینا ہماری طاقت سے بالا ہے۔پس ہمیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنے اور اس تعلق کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے اندرا کثر لوگ ایسے ہیں جن کو تعلق باللہ مضبوط کرنے کی طرف بہت کم توجہ ہے۔وہ فکری احمدی تو ہیں قلبی احمدی نہیں۔اُن کے دماغ تو بے شک تسلی پاگئے ہیں مگر اُن کے دلوں کے اندر خدا تعالیٰ کے لیے عشق پیدا نہیں ہوا۔حالانکہ بغیر عشق کے اور بغیر جذبات کی فراوانی کے کوئی چیز حاصل نہیں ہوسکتی۔پس میں جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے اندر عشق پیدا کریں اور اپنے عشق کے جذبات کو اتنا اُبھاریں کہ خدا تعالیٰ کی محبت اُن کی طرف کھینچتی چلی آئے۔میری عمر اُس وقت چھوٹی تھی جب کہ میں نے ایک رؤیا دیکھی۔( یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کی بات ہے۔جب آپ فوت ہوئے۔اُس وقت میری عمر 19 سال تھی اور یہ رویا جس کا میں ذکر کرنے لگا ہوں غالباً آپ کی وفات سے دو سال قبل کی ہے۔گویا میری عمر اس رؤیا کے دیکھنے کے وقت سترہ سال کی ہوگی )۔میں نے رویا میں دیکھا کہ میں امرتسر میں ہوں۔