خطبات محمود (جلد 29) — Page 5
$1948 5 خطبات محمود ساتھ ہی شامل ہوتی ہے۔اس لیے ممکن ہے کہ پانچ سال کی کسر بھی یعنی چھ ماہ اور ملا کر یہ پانچ سالہ رمانہ اکتوبر 1949 ء تک ہو۔بہر حال زیادہ سے زیادہ مدت 1949ء کے آخر تک ہے۔اور اگر رے پانچ سال ہوں تو یہ زمانہ مارچ 1949ء میں ختم ہوتا ہے۔گویا 25 مارچ 1948 ء کے بعد پانچواں سال شروع ہو جائے گا۔پس یہ سال اپنے اندر بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کے حضور ہمیں یہ دعائیں کرنی چاہیں کہ اس سال میں جو تغیرات رونما ہوں وہ ہمارے لیے ، اسلام کے لیے اور مذہب کی حقیقی روح کے لیے بابرکت ثابت ہوں۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ہر نیا سال شروع ہونے پر لوگ نئے ارادے، نئی اُمنگیں اور نئی امیدیں لے کر کھڑے ہوتے ہیں۔ان میں سے بہت سے ایسے ہوتے ہیں جن کے ارادے، امنگیں اور امیدیں اس سال کے پہلے مہینے میں ہی ختم ہو جاتے ہیں اور انہیں یاد تک نہیں رہتا کہ ان کی امنگیں اور امید میں کیا تھیں۔ایسے لوگ گھاس کی اُن پتیوں کی طرح ہوتے ہیں جنہیں ہوا کے جھونکے کبھی دائیں سے بائیں اور کبھی بائیں سے دائیں اُڑاتے پھرتے ہیں۔پھر ایسے لوگوں میں سے جو نیا سال چڑھنے پر نیا نیا جوش اور نئے نئے ولولے اپنے دلوں میں لے کر کھڑے ہوتے ہیں اکثر ایسے ہوتے ہیں جو باوجود ارادوں کے، باوجود اُمنگوں کے اور باوجود امیدوں کے عملی اقدام سے دور رہتے ہیں اور دنیا کے تغیرات میں حصہ نہیں لیتے۔اُن کے وجود ایسے درختوں اور ایسے چھوٹے چھوٹے پودوں کی مانند ہوتے ہیں جو پہاڑوں پر اگتے ہیں اور بڑھتے ہیں۔مگر تند ہوائیں انہیں اُکھاڑ کر پھینک دیتی ہیں اور پھر وہ یا تو آندھیوں میں اُڑتے پھرتے ہیں یا پانی انہیں اپنے ساتھ بہا کر لے جاتا ہے۔گویا ایسے لوگوں کی زندگی اور موت بے حقیقت ثابت ہوتی ہے۔مگر ان تھک جانے والوں اور تھوڑا سا چل کر ہمت ہار بیٹھنے والوں کے علاوہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے ارادوں کو پورا کرنے کی توفیق پاتے ہیں اور تھک کر ہار جانے یا ہمت ہار بیٹھنے کے کے نام سے نا آشنا ہوتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جو اولوالعزمی کے ساتھ کامیابی کے مقام تک پہنچ جاتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جو باقی دنیا کے لیے ستون ثابت ہوتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جن کی کامرانیوں سے دوسری دنیا سکھ پاتی ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر لیتے ہیں۔ہمارے لیے بھی یہ سال نئی امنگوں اور نئی اُمیدوں کا ہو سکتا ہے اور ہوا ہے۔یعنی ہمارا ملک آزاد ہو گیا ہے۔مگر جس طرح دوسرے لوگوں کی اُمنگیں ہوں گی ہماری اُس طرح نہیں کیونکہ ہمارے