خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 116

$1948 116 خطبات محمود وہاں بہت سی چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں اُس نے ایک مناسب رائے قائم کرنی ہوتی ہے۔گویا بڑھا پا عقل کا زمانہ ہے ، جوانی عمل کا زمانہ ہے اور بچپن سیکھنے کا زمانہ ہے۔بچپن کی عمر میں انسان جوانی اور بڑھاپے کی خوبیوں سے محروم ہوتا ہے۔جوانی میں عام طور پر بچپن اور بڑھاپے کی خوبیوں سے محروم ہوتا ہے اور بڑھاپے میں جوانی اور بچپن کی خوبیوں سے محروم ہوتا ہے۔لیکن اس میں ایک استثناء بھی ہے اور وہ یہ کہ خدا کا بندہ یعنی سچا اور حقیقی مومن ان ساری چیزوں کو اپنے اندر جمع کر لیتا ہے۔اس کا بڑھاپا اسے قوت عمل سے محروم نہیں کرتا۔اور اُس کی جوانی اُس کی سوچ کو ناکارہ نہیں کر دیتی۔بلکہ جس طرح بچپن میں جب وہ ذرا بھی بولنے کے قابل ہوتا ہے سوالات سے اپنی ماں کو دق کر دیتا ہے۔اُسی طرح اس کا بڑھاپا بھی علوم سیکھنے میں لگا رہتا ہے۔اس کی موٹی مثال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس ذات میں ملتی ہے۔آپ کو پچپن چھپن سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے الہاما فرمایا کہ وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا 1 یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تیرے ساتھ ہمارا سلوک ایسا ہی ہے جیسے ماں کا اپنے بچہ کے ساتھ ہوتا ہے۔تو دیکھتا ہے کہ کس طرح بچہ گو د گو دکر اپنی ماں سے سوال کرتا ہے کہ یہ کیوں ہے وہ کیوں ہے؟ اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تُو اس وقت پچاس ساٹھ سال کی عمر میں ہے مگر اس عمر میں جہاں دوسرے لوگ بے کار ہو جاتے ہیں اور زائد علوم اور معارف حاصل کرنے کی خواہش اُن کے دلوں سے مٹ جاتی ہے اور اُن کو کہنے کی عادت ہو جاتی ہے کہ ایسا ہواہی کرتا ہے تجھے ہماری ہدایت یہ ہے کہ تو ہمیشہ خدا تعالیٰ سے دعا کیجیو کہ خدایا! میرا علم اور بڑھا، میرا علم اور بڑھا۔چنانچہ دیکھ لو آخر اسلام نے کونسی ایسی نئی بات پیش کی ہے جو فطرت میں موجود نہیں تھی۔سب چیزیں موجود تھیں سوائے چند مسائل کے جو خدا تعالیٰ کی ہستی یا اُس کی صفات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔باقی سارے مسائل خواہ عبادات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں یا معاملات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں فطرتی مسائل ہیں۔نئی ایجادیں نہیں پھر کیوں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان معاملات میں بنی نوع انسان کی راہنمائی کی اور کس ذریعہ سے وہ پیشوا بن گئے؟ اسی لیے کہ آپ ہر وقت رب زِدْنِي عِلما کی دعا مانگتے رہتے تھے۔آپ نے کسی چیز کو اس لیے نہیں دیکھا کہ ایسا ہوا ہی کرتا ہے بلکہ اس لیے دیکھا کہ ایسا کیوں ہے؟ اور جب آپ نے ہر چیز کے متعلق غور کیا کہ ایسا کیوں ہے یا کیا ہونا چاہیے تو آپ کو ایسی راہنمائی عطا ہوئی جس سے آپ کا علم صبح شام بلکہ ہر گھنٹہ اور ساعت کے بعد بڑھتا چلا