خطبات محمود (جلد 29) — Page 115
$1948 115 خطبات محمود ور نہ اگر دس کروڑ دفعہ بھی سورج ایک طرف سے نکلے اور دس کروڑ دفعہ بھی دوسری طرف غروب ہو تب کی بھی یہ کوئی جواب نہیں کہ سورج ادھر سے نکلا ہی کرتا ہے یا سورج اُدھر غروب ہی ہوا کرتا ہے۔اُسے بتانا پڑے گا کہ اس نکلنے اور ڈوبنے کی فلاں وجہ ہے۔یا یہ کہنا پڑے گا کہ اس کا نکلنا اور ڈو بنا بلا وجہ ہے۔لیکن بچہ ان باتوں پر غور کرتا اور صحیح حقیقت معلوم کرنے کی جستجو کرتا ہے۔برسات کے موسم میں رات کے وقت لیمپوں پر پروانے گرنے شروع ہوتے ہیں۔ایک بڑھے کو کبھی یہ خیال بھی نہیں آتا کہ یہ پروانے کہاں سے آگئے ہیں۔لیکن بچہ جب پہلی دفعہ پروانوں کو دیکھتا ہے تو وہ حیران ہو کر کہتا ہے کہ یہ کہاں سے آگئے ہیں؟ کیوں نکلے ہیں اور چراغ کے گرد کیوں گرتے ہیں؟ یہی سوال ہے جو علم طبیعات اور علم حیوانات کے ماہر کے دل میں بھی پیدا ہوتا ہے اور وہ اس کا جواب دیتا ہے۔وہ جواب صحیح ہے یا غلط ہے اُس سے بحث نہیں۔بہر حال وہ اس کی کوئی نہ کوئی وجہ قرار دیتا ہے۔لیکن ماں بوجہ اس کے کہ اُسے خود علم نہیں ہوتا جب بچہ اُس سے سوال کرتا ہے تو وہ کہہ دیتی ہے بچہ ایوں ہی ہوا کرتا ہے۔اسی طرح پروانے نکلتے اور اس طرح لیمپوں پر گرا کرتے ہیں۔بچہ اس جواب پر حیران ہوتا ہے کیونکہ وہ یہی تو پوچھنا چاہتا تھا کہ پروانے کیوں نکلتے ہیں، کیوں لیمپ پر گرا کرتے ہیں۔اگر وہ نی اسی طرح نکلتے اور اسی طرح گرا کرتے ہیں تب تو ان کے نکلنے اور گرنے کی ضرور کوئی وجہ ہونی چاہیے۔مگر ماں کے نزدیک چونکہ وہ اسی طرح نکلتے اور اسی طرح لیمپوں پر گرتے ہیں اس لیے اُن کے نکلنے اور گرنے کی کوئی وجہ نہیں۔اور بچہ کے نزدیک یہی فعل تقاضا کرتا ہے کہ ان کے نکلنے کی کوئی وجہ ضرور ہو۔اسی طرح ان کے لیمپ پر گرنے کی بھی کوئی وجہ ضرور ہو۔یہ فرق اسی لیے ہے کہ بچے کا دماغ علم کی طرف جارہا ہوتا ہے اور ماں کا دماغ جہالت کی طرف جارہا ہوتا ہے۔بڑھا کسی چیز کی گنہہ اور حقیقت معلوم کرنے سے تھک جاتا ہے اور وجوہات دریافت کرنے کی حسن اُس کے اندر نہیں رہتی اور جب اُس سے کسی چیز کے متعلق دریافت کیا جائے کہ ایسا کیوں ہے؟ تو وہ بالعموم یہی جواب دیتا ہے کہ ایسا ہوا ہی کرتا ہے۔لیکن باوجود اس کے جتنا عرصہ اُس نے سوچا تھا جتنے سوالات اُس کے دل میں پیدا ہوئے تھے، جتنی جوانی کی اُمنگیں اُس کے قلب میں موجزن ہوئی تھیں۔ان ساری چیزوں نے ایک خلاصہ نکال کر اُس کے دماغ میں رکھا ہوا ہوتا ہے اور سوچ سمجھ کر کسی صحیح نتیجہ پر پہنچنے کی اہلیت اُس میں پیدا ہو چکی ہوتی ہے۔وہ بہت سی چیزوں کو جہاں عادتا ترک کر دیتا ہے یا ان کے متعلق سوچتا نہیں روه