خطبات محمود (جلد 29) — Page 110
$1948 110 خطبات محمود رخصتیں اس لیے دی ہیں کہ مومن بلا وجہ تکلیف میں نہ پڑیں۔لیکن ہماری جماعت میں اس مسئلہ پر زور دینے کی وجہ سے رخصتوں کا استعمال اتنا بڑھ گیا ہے کہ خطرہ پیدا ہوتا ہے کہ دین میں آہستہ آہستہ اباحت نہ پیدا ہو جائے۔اس لیے میں نے سر دست نماز کے متعلق اس بات پر زور دینا شروع کیا ہے کہ جہاں تک ہو سکے نماز وقت پر اور الگ الگ پڑھی جائے۔حضر میں تو لازمی ہی ہے۔سفر میں بھی اگر کوئی خاص روک نہ ہو تو علیحدہ علیحدہ نماز پڑھی جائے۔علیحدہ علیحدہ نماز پڑھنے میں یہ بھی فائدہ ہے کہ خواہ فرائض سے آگے پیچھے ادا کی جانے والی رکعات کا نام سنتیں نہ رکھو نوافل رکھ لو۔بہر حال اس طرح کئی دفعہ خدا تعالیٰ کو یاد کر نے اور اُس کی عبادت کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ جس طرح سفر میں بعض دفعہ انسان کو کھانا دیر سے کھانا پڑتا ہی ہے۔اگر کوئی مشکل ہو تو وہ نمازیں جمع کر سکتا ہے۔اور نمازوں کا جو مقررہ وقت ہے اُس کے اندر رہتے ہوئے وہ نمازوں کو آگے پیچھے بھی کر سکتا ہے۔لیکن یہ نہیں ہوتا کہ اگر کھانا کسی کو مل رہا ہو تو وہ اِس لیے نہ کھائے کہ چونکہ مجھے سفر در پیش ہے اور سفر میں عام طور پر کھانا وقت پر نہیں ملتا اس لیے میں یہ کھانا بھی نہیں کھاتا۔یا چونکہ میں سفر میں ہوں اور سفر میں بعض دفعہ ناشتہ کا انتظام نہیں ہوتا اس لیے میں ناشتہ نہیں کرتا۔کوئی مسافر یہ نہیں کہا کرتا کہ چونکہ مجھے بعض دفعہ سفر میں صبح کا کھانا نہیں ملتا اس لیے صبح کا کھانا ملنے پر بھی میں نہیں کھاؤں گا۔یا چونکہ شام کا کھانا بعض دفعہ سفر میں نہیں ملتا اس لیے شام کا کھانا ملنے کے باوجو د میں نہیں کھاؤں گا۔اگر کھانا نہیں ملتا تو وہ نہیں کھاتا اور اگر مل جاتا ہے تو وہ کھا لیتا ہے۔اسی طرح نماز کے متعلق بھی اِس سفری تقاضا کے مطابق عمل ہونا چاہیے۔اگر سفر میں علیحدہ علیحدہ نماز پڑھنے کا موقع مل جاتا ہے مثلاً فرض کرو گاڑی کے کمرہ میں الگ الگ نمازیں پڑھنے کی گنجائش ہے یا کوئی اسٹیشن ہے جہاں پانچ سات منٹ گاڑی نے ٹھہرنا ہے اور انسان الگ الگ نماز پڑھ سکتا ہے تو اُسے ضرور الگ الگ نماز پڑھنی چاہیے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شریعت کی طرف سے نمازیں جمع کرنے کی رخصت ہے مگر یہ رخصت ہماری کمزوریوں اور مشکلات کو دیکھ کر ہے۔جہاں بعض لوگوں کی یہ غلطی ہے کہ وہ باوجود مشکلات کے رُخصتوں پر عمل نہیں کرتے جیسے غیر احمدی کہتے ہیں کہ آجکل کا سفر آرام دہ