خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 76

خطبات محمود 76 سال 1947ء پچھلے کئی سالوں سے جماعت کی توجہ تبلیغ کی طرف کم تھی اور جماعت کے افراد اکثر یہ شکایت کرتے رہتے تھے کہ لوگ ہماری باتیں سنتے ہی نہیں۔یہ کہنا کہ لوگ ہماری باتیں سنتے ہی نہیں اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ایک تو یہ کہ لوگ ہماری باتوں کی مخالفت کرتے ہیں۔اگر یہ معنی لئے جائیں تو اس بات کے کہنے کی ضرورت ہی کیا ہے کہ لوگ ہماری تعلیم کی مخالفت کرتے ہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اُسی وقت مامور بھیجتا ہے جبکہ لوگ صداقت سے دور چلے جاتے ہیں اور اُن کی کو صداقت سے کوئی دلچسپی نہیں رہتی۔ایسے لوگوں کے متعلق یہ قیاس کرنا کہ ادھر ہم اُن کو صداقت کی باتیں کہیں گے اور اُدھر وہ مان جائیں گے یہ بالکل غلط قیاس ہے۔اور یہ پہلے سمجھی ہوئی بات ہے کہ جب بھی اللہ تعالیٰ اپنے کسی مامورکومبعوث کرتا ہے تو لوگ اُس کی باتوں کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔چنانچہ پہلا الہام جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہوا وہ یہی تھا کہ دنیا میں ایک نبی آیا۔پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا۔لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔2 اس الہام سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دنیا آسانی کے ساتھ اس نبی کی باتیں نہیں مانے گی اور اس نبی کی سچائی کو منوانے کے لئے اللہ تعالیٰ زور آور حملوں سے اس کی تائید کرے گا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ بہت زور آور حملوں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کو دنیا پر ظاہر کر رہا ہے اور کرتا رہے گا جب تک کہ دنیا اس صداقت کو مان نہیں لیتی۔پس یہ سوال کہ لوگ اس سچائی کی مخالفت کریں گے یا نہیں؟ بالکل صاف ہے۔دوسرے معنی یہ ہیں کہ لوگ سچائی کو قبول کر ہی نہیں سکتے۔یہ بات بھی بالکل خلاف عقل ہے۔جب اللہ تعالیٰ پنے مامور کو اس لئے بھیجتا ہے کہ لوگ اُسے قبول کریں اور اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ لوگ اُسے قبول کریں گے تو ہماری جماعت کے لوگ کس طرح یہ کہہ سکتے ہیں کہ لوگ قبول نہیں کریں گے۔اللہ تعالیٰ نے مامور اسی لئے بھیجا ہے کہ وہ قبول کر سکتے ہیں۔ابتدائی مخالفت اور چیز ہے لیکن یہ بات بالکل غلط ہے کہ لوگوں کے دل سچائی کے قبول کرنے پر آمادہ ہو ہی نہیں سکتے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ اردگرد کے ماحول کی وجہ سے اور اردگرد کی مشکلات کی وجہ سے اُن کا قبول کرنا مشکل نظر آتا ہو۔لیکن ہمارا فرض یہی ہے کہ ہم اُن کو ایسے طور پر تبلیغ کریں کہ اُن کے اندر ایمان پیدا ہو جائے۔جب انسان کے اندر ایمان پیدا ہو جاتا ہے تو وہ تمام قسم کے خوف دل سے نکال دیتا ہے اور جب