خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 46

خطبات محمود 46 سال 1947ء عمارت سے نصف نصف میل تک کے دائرہ کا ایک نقشہ تیار کیا جائے جس میں بتایا جائے کہ فلاں فلاں جگہ سڑکیں ہونگی ، فلاں فلاں جگہ گلیاں ہونگی ، اور پھر اعلان کر دیا جائے کہ جو شخص ان حصوں میں کوئی مکان بنائے وہ سڑکیں اور گلیاں چھوڑ کر مکان بنائے۔سڑکوں وغیرہ کی درستی کے متعلق میں بتا چکا ہوں کہ اگر میونسپل کمیٹی یہ بار برداشت نہ کر سکے تو پھر امور عامہ کے ساتھ وہ سمجھوتہ کرلے۔اس کے بعد یہ قاعدہ بنا دیا جائے گا کہ ہر زمین فروخت کرنے والا دس فیصدی سڑکوں وغیرہ کی درستی کے لئے دے۔اس کے بعد رفتہ رفتہ یہ شرح بڑھائی بھی جا سکتی ہے لیکن اسے گھٹایا جا سکتا۔یہ فنڈ جب مضبوطی کے ساتھ قائم ہو گیا تو اس روپیہ سے سڑکوں کو پختہ بنانے یا گلیوں وغیرہ کو درست کرنے کا کام لیا جا سکتا ہے۔اور یہ کام ایسا ہے جو لوگوں کی صحبتوں کو درست رکھنے کے لئے نہایت ضروری ہے۔ہم نے دار الانوار بنایا تو لوگوں کو زمینیں بھی سستی مل گئیں۔اور پھر اس وجہ سے کہ اس محلہ کی سڑکیں بہت چوڑی ہیں میں نے دیکھا ہے جتنی سڑک دار الانوار کی چلتی ہے اُتنی سڑک کوئی اور نہیں چلتی۔لوگ سیر کے لئے اُدھر ہی جاتے ہیں۔شروع میں تو دار الرحمت اور دار الفضل وغیرہ کے لوگ بھی اسی طرف سیر کرنے کے لئے آتے تھے۔کیونکہ چوڑی سڑکیں ہیں اور دیکھنے والے پر اس کا نہایت خوشگوار اثر پڑتا ہے۔خالی شہر کا بڑھنا کوئی چیز نہیں۔شہر کا خوبصورت اور صحت افزا ہونا بھی نہایت ضروی ہوتا ہے۔اور اس کا انسانی دماغ اور اس کی قوتوں پر خاص اثر پڑتا ہے۔ورنہ اگر قادیان کی آبادی بڑھ جائے اور بوجہ آبادی کے گنجان ہو جانے اور مکانات کے تنگ و تاریک ہونے کے لوگوں کی صحتیں بگڑ جائیں اور وہ بیمار اور کمزور رہنے لگ جائیں تو ایسی آبادی کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔جیسے آجکل بھی بوجہ اس کے کہ قادیان کی آبادی بڑھ گئی ہے کئی قسم کے امراض لوگوں میں پیدا ہونے لگ گئے ہیں۔مثلاً ٹائیفائیڈ قادیان میں بڑی کثرت سے ہوتا ہے اور ہر سال بیسیوں لوگ اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔حالانکہ ایک مومن کی جان بھی بڑی قیمتی چیز ہوتی ہے کجا یہ کہ ہر سال بیسیوں جانوں کو نی نقصان پہنچے اور اس کے تدارک کا کوئی فکر نہ کیا جائے۔اسی طرح سل اور دِق کا مرض بھی قادیان میں پایا جاتا ہے۔یہ بیماریاں اسی وجہ سے ہیں کہ مکانات کشادہ نہیں۔آبادی بڑھ گئی ہوتی ہے اور جراثیم کمزور لوگوں پر غلبہ پالیتے ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جب بھی کسی مرض کے نتیجہ